The news is by your side.

Advertisement

سانحہ اے پی ایس کیس: وزیراعظم کی ذمہ داران کے تعین کی یقین دہانی

اسلام آباد: سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس میں وزیراعظم کی جانب اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کی استدعا مسترد کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالتی حکم کی تعمیل پر وزیراعظم عمران خان عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت وزیراعظم نے ججز صاحبان سے مکالمہ کیا کہ ایک منٹ جج صاحب آپ ٹھہرجائیں، بچوں کے والدین کو اللہ صبر دے گا، میں پہلے بھی ان سے ملا تھا اب بھی ملوں گا، یہ بھی پتہ لگایاجائے 80ہزارجانوں اور 480ڈرون حملوں کا ذمہ دارکون ہے؟

جس پر چیف جسٹس نے وزیراعظم عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں یہ پتہ لگانا آپ کا کام ہے، بطور وزیراعظم ان سارے سوالوں کا جواب آپ کے پاس ہوناچاہیے، وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں قانونی تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ اے پی ایس معاملے پر اعلیٰ سطح کمیشن بنادیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت والدین کامؤقف سن کر کارروائی کرے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2014میں سانحہ ہوا،7 سال گزر گئے، جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب ہمارا کوئی چھوٹا ملک نہیں، دنیاکی چھٹی بڑی آرمی ہماری ہے، آپ مجرمان کو مذاکرات کےلیےمیزپر لےآئے کیاہم ایک بارپھرسرنڈر ڈاکیومنٹ سائن کرنےجارہےہیں۔

کمرہ عدالت میں موجود وزیراعظم نے کہا کہ یہ جنگ امریکی دباؤ پر قوم پر مسلط کی گئی 80ہزارجانیں امریکی جنگ مسلط کرنے کی وجہ سے گئیں، سانحہ آرمی پبلک اسکول پر سب سے بڑھ کر ذمہ داری نوازشریف کی تھی، نوازشریف وزیراعظم تھے انھیں چاہیے تھا استعفیٰ دیتے، جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ نوازشریف اس وقت وزیراعظم استعفیٰ دیتے تو اچھا ہوجاتا، ان سے بہتر کوئی آدمی آکر معاملات سنبھال لیتا۔

دوران سماعت وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موجودہ افغان صورتحال کے باعث پاکستان میں بھی دہشتگردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے خطرات کا بتارہےہیں؟ تو وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے یہ خطرات عارضی طور پر ہیں۔

چیف جسٹس نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، ان کا سوال ہے کہ سانحے کے وقت پورا سیکورٹی سسٹم کہاں تھا؟ افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے واضح حکم کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتی حکم میں نام واضح ہیں،اعلی سطح کمیٹی تحقیقات کر سکتی ہے، عدالت کو یقین دہانی کرائیں آپ ایکشن لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو پتہ تو چلے ذمہ دار کون ہے؟ کچھ نہ کچھ کارروائی ہونی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ عوام کے سامنے غفلت آئے تو یہ سب سے بڑی ایف آئی آرہوگی۔

جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوریت میں معافی نہیں ہوتی استعفیٰ آتا ہے اور کیس میں غیر جانبداری سے والدین کے نامزد افراد سے تحقیقات تو ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں