site
stats
پاکستان

سانحہ بہاولپور: ذمہ داران کو نتائج بھگتنا ہوں گے، لاہورہائیکورٹ

لاہور: سانحہ احمد پور شرقیہ کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جو بھی حادثے کاذمہ دار ہو گا اس کو نتائج بھگتنا ہوں گے اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سید منصورعلی شاہ نے احمد پور شرقیہ کیس کی سماعت کی۔ ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ، اوگرا اور ہائی وے پولیس کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ جس ٹینکر کو حادثہ پیش آیا اس کا لائسنس ختم ہو چکا ہے اور اسے ابھی تک اس کی تجدید بھی نہیں کی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس جرم پر پہلی بار پانچ سو اور دوسری بار دو ہزار جرمانہ ہوتا ہے جبکہ کمپنی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے اس بیان پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کیا کارروائی ہوئی؟ اس طرح تو ہر بندہ بغیر لائسنس ٹینکر چلا کر پانچ سو جرمانہ دے کر جان چھڑاتا رہے گا۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ ایسے جرم پر معمولی جرمانہ رکھا گیا، کیا آئل کمپنی کو بھی محض پانچ سو روپے ہی جرمانہ ہوا، موٹر وے اتھارٹی اور نیشنل ہائی وے گاڑیوں کی فٹنس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں کمپنی بتائے کہ تیل بھرنے سے قبل کنٹینر کو چیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟

عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ حکومت نے کس قانون کے تحت جاں بحق افراد کو جو معاوضہ ادا کیا ہے کیا کابینہ سے منظوری لی گئی؟ عدالت نے استفسار کیا کہ انشورنس کمپنیاں کہاں ہیں اور آئل کمپنی نے متاثرین کے لیے کیا پالیسی اختیار کی۔


مزید پڑھیں: سانحہ بہاولپور: جاں بحق افراد کی تعداد 214 ہوگئی


اوگرا نمائندے نے بیان دیا کہ کمپنی کو جاں بحق افراد کو دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے دینے کی ہدایت کی گئی مگراس پر عمل درآمد نہیں ہوا جس پر آئل کمپنی کے وکیل نے اس حوالے سے جواب داخل کروانے کے لیے مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے تمام فریقین سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتہ تک ملتوی کر دی۔


مزید پڑھیں: شیل آئل کمپنی سانحہ احمد پور شرقیہ کی ذمہ دار قرار


یاد رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں سانحہ احمد پور شرقیہ کا ذمہ دار شیل آئل کمپنی کو قرار دے دیا ہے۔ کمپنی کو شو کازنوٹس جاری کرکے اس پر 1 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا گیا ہے۔

اوگرا کا کہنا ہے کہ کمپنی کا آئل ٹینکرغیر معیاری تھا، ٹینکر نے اوگرا اور ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کے قوانین پورے نہیں کیے۔

اوگرا کے مطابق آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا جبکہ ٹینکر تکنیکی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا تھا۔ 50 ہزار لیٹر تیل کی ترسیل کے لیے 5 ایکسل کا ٹینکر استعمال ہوتا ہے جبکہ حادثے کا شکار ٹینکر 4 ایکسل کا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top