The news is by your side.

Advertisement

صرف 20 منٹ میں کرونا وائرس کا علاج حتمی مراحل میں: امریکی ڈاکٹر کا دعویٰ کتنا سچ؟

دوا کو پہلے امریکی فوجیوں پر ٹیسٹ کیا جائے گا

واشنگٹن: ایک امریکی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی دوا بنانے میں اگلے 3 سے 4 ہفتوں میں کامیاب ہوجائیں گے، ان کی بنائی گئی دوا صرف 20 منٹ میں اس موذی وائرس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کرسکتی ہے۔

امریکا کے ڈاکٹر جیکب گلینول کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی لیبارٹری کرونا وائرس کی دوا بنانے میں تقریباً کامیاب ہوچکی ہے اور یہ دوا اگلے 3 سے 4 ہفتوں میں دستیاب ہوگی۔

ڈاکٹر گلینول کا کہنا ہے کہ ان کی بنائی دوا جسم میں موجود اینٹی باڈیز کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ کرونا کے وائرس سے مطابقت کرلیں گے جس کے بعد کرونا وائرس انسانی جسم کے لیے بے ضرر بن جائے گا۔

یہی نہیں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی یہ دوا صرف 20 منٹ میں اپنا اثر دکھا سکے گی۔

ڈاکٹر گلینول کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ دوا امریکا کے آرمی میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشیئس ڈیزیز کو بھیجی جارہی ہے جو اسے کرونا وائرس کا شکار امریکی فوجیوں پر ٹیسٹ کرے گا۔

علاوہ ازیں اسے امریکا کی چارلس ریور لیبارٹریز کو بھی بھیجا جارہا ہے جہاں اسے مختلف مریضوں پر ٹیسٹ کروایا جائے گا۔ دونوں جگہ سے آنے والے نتائج کو دیکھا جائے گا اور ان کی بنیاد پر تعین کیا جائے گا کہ دوا کس حد تک مؤثر ہے۔

ڈاکٹر گلینول کا کہنا ہے کہ اب تک کرونا وائرس کے خلاف جتنی بھی دواؤں پر کام کیا جارہا ہے وہ سب سال کے آخر تک دستیاب ہوسکیں گی، لیکن اس وائرس کی ہلاکت خیزی اس بات کی متقاضی ہے کہ جلد سے جلد اس کا توڑ تیار کیا جائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں