The news is by your side.

Advertisement

سیاحتی مقامات پر پیٹرول کی قلت، 700 روپے لیٹر میں فروخت

ناران / کالام / استور: پاکستان کے تین مختلف سیاحتی علاقوں میں پیٹرول کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے، جس کے باعث مالکان نے من مانی قیمت میں پیٹرول کی فروخت شروع کردی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق خیبرپختونخواہ کے ضلع سوات میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہوئی جس کے بعد وہاں پیٹرول مہنگے داموں فروخت ہونے گا۔

اطلاعات کے مطابق کالام میں پمپ مالکان نے سیاحوں کی بڑی تعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیٹرول کو بلیک میں فروخت کرنا شروع کیا اور اسے 700 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا۔

اس سے قبل خیبرپختون خواہ کے ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات بالخصوص ناران اور کاغان میں بھی پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی، جس کے بعد وہاں بھی مہنگے داموں پیٹرول فروخت ہوا۔

اب گلگت کےمختلف علاقوں میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی، جس کے باعث سب ڈویژن جگلوٹ میں پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی، شہری پیٹرول نہ ملنے پر مشتعل ہوئے اور پیٹرول پمپ کے باہر آپس میں جھگڑا بھی کیا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے پیٹرول کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کو فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پٹرول پمپس کو پٹرول فراہم کردیاگیا‘۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی صورت پٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونےدیں گے اور مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں گے۔

کالام میں‌ موجود سیاح نے بتایا کہ انہیں پیٹرول کے حصول کے لیے کئی کئی گھنٹے قطار میں لگنا پڑتا ہے اور نمبر آنے پر اضافی رقم ادا کرنے کے بعد پیٹرول ملتا ہے۔

سیاحوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پیٹرول کی قلت کا نوٹس لے کر اس مسئلے کو فوری حل کرے اور ایسے اقدامات کرے کہ کسی کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں