The news is by your side.

Advertisement

اسٹیفن ہاکنگ دنیا کے لیے مثالی شخصیت تھے

لندن:برطانیہ کے مشہور ماہرطبعیات و کاسمولوجی(کونیات) اسٹیفن ہاکنگ کو سائنس داں،سیاست داں، اور فنکارخراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دنیا کے جانے مانے سائنسداں اسٹیفن ہاکنگ گذشتہ روز 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ نوجوانی میں ہونے والی موزی مرض کے باعث طویل عرصے سے معذوری کا شکار تھے۔

اسٹیفن ہاکنگ کے انتقال کے بعد دنیا کے سائنس داں،سیاست داں اور فنکار غرض تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ماہر طبعیات و کاسمولوجی(کونیات) کو ان الفاظ سےلاکھوں لوگوں کی حوصلہ افزائی کےلیے مثالی شخصیت تھےخراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

ماہر فلکیات رائل لارڈ ریس اسیٹفن ہاکنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ’دنیا کے اس ممتاز سائنس دان نے اپنی زندگی کوفتح‘کے طور پر بیان کیا ہے۔ دیگر لوگ بیان کرتے ہیں کہ اسیٹفن’تمام لوگوں میں منفرد تھے‘ان کی موت نے دانشوروں کے درمیان خلا چھوڑ دیا ہے۔

پُروفیسر ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد پچھلی صدی کا سب سے بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا مخصوص شعبہ بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی (کونیات) ہے۔ اسٹیفن نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں لیکن ان کی مشہورکتاب’وقت کی مختصر تاریخ‘بریف ہسٹری آف ٹائم سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔

پُروفیسر اسیٹفن ہاکنگ نے برطانیہ کی کیمریج یونیورسٹی سے اپنی ڈاکڑیٹ کی تعلیم مکمل کی اور اُسی یونیورسٹی میں بطور لوکاسین پُروفیسر ریاضی تعلیم دینے لگے۔ سر اسحاق نیوٹن’ہاکنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے خود کو’لاکھوں افراد کے لیے حوصلہ افزاءشخصیت‘کے طور پر بیان کیا ہے۔

گونویل اینڈ کیس کالج، کیمبرج میں 50سال کے طویل عرصے سے ساتھ کام کرنے والے افراد فروفیسر اسٹیفن کی تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے قطار بنائے کھڑے ہیں۔

پُروفیسر ہاکنگ کے بچوں لوسی، رابرٹ، اور ٹم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ’انہوں نے مسلسل جرات اور عقل مندی کے ساتھ ساتھ اپنے مزاح سے بھی پوری دنیا کے لوگوں کے متاثر کیا ہے‘۔

اسٹیفن ہاکنگ کے بچوں کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ انہوں اپنی زندگی میں ایک بات کہی تھی’یہ کائنات اتنی بھی کچھ خاص نہ ہوتی اگر یہ اُن لوگوں کا گھر نہ ہوتی جن سے آپ محبت کرتے ہیں‘۔

ورلڈ وائڈ ویب کے بانی سر ٹم برنرز لی کہتے ہیں کہ’پُروفیسر ہاکنگ زبردست دماغ اور شاندار روح کے مالک تھے‘۔ امریکی خلائی ماہر نیل دی گریس سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ’اسٹیفن کی موت نے دانشوروں کے درمیان ایک خلا چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ نوبل انعام یافتہ جورج اسموتھ کہتے ہیں کہ’اسٹیفن ہاکنگ مہم جو شخصیت تھے‘۔

یورپی خلائی ایجنسی نے فروفیسر ہاکنگ کی 2007 میں جہاز پر زیرو گریویٹی کے تجربے کی ایک تصویر شائع کی ہے جس کے ساتھ لکھا ہے’اسٹیفن نے زندگی گزار کر دکھایا ہے کہ خوابوں کو مکمل کرنے کےلیے کوئی حد نہیں ہوتی ہے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں