واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک کو فروخت کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کی تاریخ میں توسیع کر دی۔
قطری نیوز چینل الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے جاری ایگزیکٹو آرڈر میں اعلان کیا کہ تاریخ میں 75 دن کی توسیع کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے منظور کردہ قانون میں طے شدہ جنوری کی آخری تاریخ میں توسیع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے ٹک ٹاک خریدنے کا اپنا پلان واضح کر دیا
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میری انتظامیہ ٹک ٹاک کو بچانے کے معاہدے پر بہت محنت کر رہی ہے اور ہم نے زبردست پیشرفت کی ہے، تمام ضروری منظوریوں پر دستخط ہونے کو یقینی بنانے کیلیے مزید کام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہم ڈیل کو حتمی شکل دینے کیلیے ٹک ٹاک اور چین کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
2024 کے قانون نے لازمی قرار دیا کہ پلیٹ فارم کو چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس سے الگ کیا جائے یا اس کا امریکا میں استعمال بند کیا جائے کیونکہ یہ قومی سلامتی کیلیے خطرہ ہے۔
تاہم رواں سال کے شروع میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ قومی سلامتی کے خدشات اظہار رائے کی آزادی کے خدشات سے کہیں زیادہ ہیں، عدالت نے قانون کو قائم رہنے دیا۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر بننے کے پہلے ہی دن ٹک ٹاک پر پابندی کو روکنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں کہا گیا کہ اس سے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک منظم طریقے سے آگے بڑھنے کیلیے مناسب طریقہ کا تعین کرنے کا موقع ملے گا جو لاکھوں امریکیوں کے زیرِ استعمال پلیٹ فارم کے اچانک بند ہونے سے گریز کرتے ہوئے قومی سلامتی کا تحفظ کرتا ہے۔
تب سے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی کاروباری اداروں کی جانب سے ٹک ٹاک خریدنے کی پیشکش کی گئی لیکن چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے اب تک اسے فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بائٹ ڈانس میں سب سے بڑے غیر چینی سرمایہ کاروں کیلیے اپنے داؤ کو بڑھانے اور ایپ کے امریکی آپریشنز کو حاصل کرنے کیلیے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔