The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ اور امریکی فوج میں اختلاف، نئی کتاب نے بڑا تنازع کھڑا کردیا

واشنگٹن : ’امریکی فوج کو ٹرمپ پر آخری ایام میں اعتماد نہیں تھا‘ سابق صدر ٹرمپ دور کے آخری ایام پر لکھی گئی کتاب نے نیا تنازع کھڑا کردیا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ حکومت تقریباً ہی تنازعات کا شکار رہا ہے لیکن ان کی صدارت کے آخری ایام پر لکھی گئی کتاب نے تنازعے میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔

امریکی صحافیوں باب ووڈورڈز، رابرٹ کوسٹا کی کتاب آئندہ ہفتے مارکیٹ میں آئے گی، دونوں صحافیوں نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کو ٹرمپ پر آخری ایام میں اعتماد نہیں تھا۔

امریکی میڈیا نے کتاب کی تحریر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل مارک ملی نے دو مرتبہ چین کے چینی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور اس حوالے سے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ٹرمپ کو بتائے بغیر خفیہ کالز کیں۔

کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدارتی الیکشن سے چند دن قبل اور کانگریس پر حملے کے بعد رابطہ کیا گیا تھا اور اس حوالے سے جنرل ملی نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کو معاملے سے آگاہ رکھا۔

جنرل ملی نے حکام کو جوہری حملے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ریپبلکنز سینیٹرز کی جانب سے جنرل ملی کو عہدے سے ہٹانے اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ترجمان جنرل مارک ملی نے کہا کہ ملک کے اسٹریٹجک استحکام کےلیے دائرہ کار کے مطابق کام کیا جب کہ ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مارک ملی محب وطن ہیں اور صدر بائیڈن کو ان پر مکمل اعتماد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں