The news is by your side.

Advertisement

امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی عائد

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنس تبدیل کرنے والے بیشتر لوگوں کے لیے فوج میں خدمات انجام دینے پر پابندی عائد کردی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دفاع اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزرا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خواجہ سرا کی فوج میں رسائی یا انہیں فوج میں برقرار رکھنے کے لیے فوج کی کارکردگی کے لیے بڑا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ٹرانس جینڈرز کی امریکی فوج میں بھرتی پر پابندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی طبی ادویات یا سرجری سمیت خاصا زیادہ طبی علاج درکار ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام کئی قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا اور پینٹا گون نے جنوری تک ایسے افراد کی فوج میں بھرتی جاری رکھی ہوئی تھی۔

اس پابندی کو لے کر ٹرمپ پر شدید تنقید کی جارہی ہے، سیاست دانوں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایل جی پی ٹی کے سرگرم کارکنوں نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ سال یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسے لوگوں کی فوج میں شمولیت پر پابندی لگا دیں گے جو سابق صدر بارک اوباما کی جانب سے ٹرانس جینڈرز کو فوج میں شامل کرنے کی منسوخی کا ایک اقدام ہے۔

یاد رہے کہ امریکی آرمی میں پہلے سے بھرتی ٹرانس جینڈرز اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے، رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکی آرمی میں 15500 کے قریب ٹرانس جینڈرز بھرتی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں