The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ اور جوبائیڈن میں لفظی گولہ باری کے بعد مباحثے کا طریقہ کار تبدیل

واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین ہونے والے مباحثے میں تنازعہ کے بعد کمیشن آف پریسیڈنشیل ڈیبیٹس نے مباحثے کا فارمیٹ تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں صدارتی انتخابات سے مضبوط امیدواروں کے درمیان مباحثے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیدوار مملکت کو مزید ترقی دینے کےلیے دلائل سامنے رکھتے ہیں اور ماضی کی حکومتوں کے نقائص بھی بتاتے ہیں لیکن 29 ستمبر کو ٹرمپ اور جوبائیڈن میں ہونے والے مباحثے نے دنیا کو امریکی شہریوں کو حیران کردیا تھا۔

ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان مباحثے کے دوران ہونے والے تنازعے کو مدنظر رکھتے ہوئے بحث منعقد کرانے والا آزاد ادارہ کمیشن آف پریسیڈنشیل ڈیبیٹس (سی پی ڈی) نے فارمیٹ میں تبدیلی کا فیسلہ کیا ہے تاکہ مباحثوں کو جاری رکھا جاسکے۔

سی پی ڈی کا کہنا تھا کہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد اگر صدر ٹرمپ اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کے مابین کوئی جھگڑا ہوتا ہے یا کوئی دوسرے امیدوار کو روکنے کی کوشش کرتا ہے مائیکروفون بند کرنے کا ایک طریقہ موجود ہوگا۔

کمیشن آف پریسیڈنشیل ڈیبیٹس کی جانب سے یہ فیصلہ منگل 29 ستمبر کو ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان منعقدہ مباحثے کے دوران ہونے والے جھگڑے، ایک دوسرے کی تذلیل کرنا اور چیخنے چلانے جیسا رویے کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ٹرمپ اور جوبائیڈن میں صدارتی مباحثہ بدنظمی کا شکار

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگوں نے اسے اب تک کا سب سے خراب بحث میں سے ایک قرار دیا اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں اس پر تنقید ہورہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سی پی ڈی اگلے 48 گھنٹوں میں اگلی بحث کے لئے نئے رہنما اصول طے کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں