The news is by your side.

Advertisement

سعودی وضاحتیں جمال خاشقجی کے قتل کی بدترین پردہ پوشی ہے، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ سے منسلک صحافی کی جمال خاشقجی کے قتل کے متعلق سعودی عرب کی وضاحتوں کو ’حقائق کی پردہ پوشی کرنے کو بدترین کوشش‘ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں لاپتہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے پر منگل کے روز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس نے بھی جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اسے شدید مشکل میں مبتلا ہونا چاہئے‘۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 21 افراد کے ویزے منسوخ کررہے ہیں، قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو سزائیں بھی دے گا جبکہ ملزمان پر پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مغربی اتحاد کے اہم رکن سعودی عرب کے خلاف جمال جمال خاشقجی کے معاملے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی کے خلاف کی گئی منصوبہ بندی شروع سے خراب تھی، جس پر عمل درآمد بھی غلط انداز سے کیا گیا اور ان جرائم کو چھپانا تاریخ کی بدترین پردہ پوشی ہے۔

یاد رہے کہ جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے تاہم سعودی حکام مسلسل امریکی شہری اور واشنگٹن پوسٹ سے منسلک 59 سالہ صحافی و کالم نگار کی گمشدگی کے متعلق غلط وضاحتیں دیتا رہا اور دو ہفتے تک حقائق کی پردہ پوشی کرتا رہا۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ ایک صحافی کی آواز کو سفاکانہ طریقے سے دبانا ناقابل برداشت ہے، ’میں اور صدر اس صورت حال پر ناخوش ہیں‘ اور اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں سعودی کونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا، بعد ازاں امریکی صدر نے اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔

ٹرمپ نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی وضاحت اور تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا میں مطمئن نہیں ہوں۔

علاوہ ازیں امریکا نے سعودی سفارت خانے میں جمال خاشقجی کے مبینہ قتل پر ریاض میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے، قتل میں سعودی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں