The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کے ردعمل میں کیا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مساجد پر حملے کے ردعمل میں کیا پہلا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا، جس میں ایک متنازع لنک شئیر کیا تھا جبکہ  دوسرے ٹوئٹ میں قتل عام کی مذمت کی اور نیوزی لینڈ کی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے نیوزی لینڈ میں افسوسناک واقعے پر امذمت کرنے کے بجائے ٹویٹ کیا جس میں کسی تعزیت یا افسوس کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ ایک متنازع لنک شئیر کیا ۔

امریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر لوگوں نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا تو انہوں نے ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔

دس گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے بالآخر انسانیت پر مبنی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے ٹوئٹ میں قتل عام کی مذمت کی اور نیوزی لینڈ کی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا 49 لوگ کو بے حسی سے قتل کیا گیا اور کئی زخمی ہوئے، امریکہ نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے ۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں سفید فام نسل پرستوں میں انتہاء پسندی بڑھتے ہوئے رحجانات پر پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا  وہ  سمجھتے کہ سفید فام اتنہا پسند نہیں، ایک چھوٹے سے گروپ کی وجہ سے لوگ مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ  یہ حملہ انتہائی خوفناک تھا، اس دکھ کی گھڑی میں امریکہ نیوزی لینڈ کےساتھ کھڑا ہے،اور ہرطرح کی معاونت فراہم کرنےکیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا نیوزی لینڈ سے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں، ٹیلی فونک رابطے میں وزیراعظم کو ہرممکن تعاون کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا  کہ امریکی صدر ڈونلڈ سے فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے کرائسٹ چرچ میں 49افراد کےجاں بحق ہونے پر  تعزیت کا اظہار کیا اور دریافت کیا کہ امریکا کیا مدد کرسکتا ہے، میرا تمام مسلمانوں کو ہمدردی اور محبت کا پیغام ہے۔

واضح رہےکہ نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں سفید فام شخص نے دو مساجد پر اُس وقت فائرنگ کی تھی کہ جب وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کا اجتماع شروع ہونا تھا، فائرنگ کے واقعے میں 49 مسلمان شہید جبکہ متعدد نمازی شدید زخمی ہوئے، ملزم نے اپنے گھناؤنے عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں