The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا قریب، ٹرمپ نے تیاری کا اشارہ دےدیا

واشنگٹن :امریکی حکومت افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے قریب پہنچ گئی ہے اور تازہ پیش رفت میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تیاری کا اشارہ دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو قریب قرار دے دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس ہوا، جس میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان سے امن معاہدے پر غور کیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی تیاری کا بھی اشارہ دے دیا۔

اس حوالے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے ہی قطر جائیں گے۔اجلاس کے دوران امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی ٹیم کے دیگر ممبران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو افغان امن عمل پر بریفنگ دی۔

واضح رہے کہ 2001 سے افغانستان میں جاری جنگ میں اب ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کی ضرورت پر تذبذب کا شکار ہیں۔خیال رہے کہ اب تک افغانستان میں جاری جنگ کے دوران 2 ہزار 4 سو امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔اعلیٰ سول و عسکری حکام کے اجلاس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ممکن ہوسکے تو اس 19 سال سے جاری جنگ کے دونوں حریف اب ایک معاہدے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے افغان امن عمل سے متعلق اہم اجلاس مکمل کیا ہے۔ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گڈلے نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس اجلاس میں نائب صدر مائیک پینس، سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے بھی شرکت کی تھی۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی افواج اور طالبان کے درمیان جنگ 2001 سے جاری ہے جس میں عسکریت پسندوں اور امریکی و نیٹو اہلکاروں کے علاوہ متعدد افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا نے 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے طیارہ حملوں کے بعد افغانستان میں فوج کشی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی برس 7 اکتوبر کو امریکی افواج نے افغانستان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس جنگ نے جہاں افغانستان کو بری طرح متاثر کیا وہیں اس کے شعلوں نے پاکستان میں بھی اپنے اثرات مرتب کیے ، دہشت گردی کی لہر نے پاکستان میں پچاس ہزار سے زائد شہریوں کی جان لے لی، تاہم اب امید ہے کہ یہ جنگ اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں