The news is by your side.

Advertisement

مواخذے کی کارروائی ، صدرٹرمپ پرعائد الزامات کی فہرست جاری

واشنگٹن : ایوان نمائندگان کی عدلیہ کمیٹی نے مواخذے کی کارروائی کے سلسلے میں امریکی صدرٹرمپ پرعائد الزامات کی فہرست جاری کردی ہے ، صدرٹرمپ پراختیارات کے ناجائزاستعمال اورکانگریس کی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں ایوان نمائندگان کی عدلیہ کمیٹی نے باقاعدہ طور پرالزامات کی فہرست جاری کردی ہے، ٹرمپ پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں،جس میں سیاسی مخالف کی تفتیش کے لیے یوکرین پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کرکے اختیارات کا غلط استعمال کیا، جو ملک سے دھوکا دہی ہے۔

ڈیموکریٹس نے دوسرا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسکینڈل کے حوالے سے ہونے والی کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کے اکثریتی ایوان میں ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹنگ ہوگی، جو اگلے ہفتے ہوسکتی ہے جس کے بعد سینیٹ میں ٹرائل ممکنہ طور پر جنوری میں ہوگا۔

دوسری جانب ری پبلکن کی جانب سے نہ تو ایوان نمائندگان اور نہ ہی سینیٹ میں ٹرمپ کی برطرفی کے حق میں کوئی حمایت تاحال سامنے نہیں آئی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی قانونی کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کارروائی کریں گے کیونکہ ٹرمپ نے امریکا کے آئین کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 2020 کے انتخابات کی شفافیت کو دھندلا کردیا اور قومی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں :  مواخذے کی کارروائی، آئینی ماہرین نے بھی ٹرمپ کے خلاف بیانات دے دیے

اسپیکر نینسی پیلوسی اور مواخذے کی کارروائی میں شامل ڈیموکریٹس کے دیگر رہنماﺅں کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں ٹرمپ کے خلاف الزامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ‘کوئی بھی، یہاں تک کہ صدر بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

جیرالڈ نیڈلر نے کہا ہمارے انتخابات جمہوریت کے لیے ایک بنیادی پتھر ہیں، ہمارے اگلے انتخابات کو صدر کی جانب سے خطرہ ہے جو پہلے ہی 2016 اور 2020 کے انتخابات کے لیے بیرونی مداخلت طلب کرچکے ہیں۔

صدرٹرمپ نے سینٹ پرزوردیا کہ وہ جلد ازجلد ان کے خلاف کارروائی کاآغازکرے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا صدرٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان پرمقدمہ کیا جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی قسم کے غلط کام کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے انکوائری کو دھوکا قرار دیا جبکہ ایوان نمائندگان کی سماعت کو نامناسب قرار دیتے ہوئے شریک ہونے سے انکار کرنے والے وہائٹ ہاﺅس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈیموکریٹس 2016 کے انتخابات کو غیر موثر کرنے کے لیے ایک بے بنیاد اور جانب دارانہ کوششیں کررہے ہیں۔

وائٹ ہاﺅس کی ترجمان اسٹیفنی گریشام کا کہنا تھا کہ صدر سینیٹ میں جھوٹے دعوﺅں پر خطاب کریں گے اور توقع ہے کہ تمام خدشات ختم ہوں گے کیونکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ 25 ستمبر 2019 کو دیموکریٹس کی رکن اور ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

خیال رہے امریکی تاریخ میں آج تک صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، جن میں 1998 میں بل کلنٹن جبکہ 1868 میں اینڈریو جانسن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں