ٹرمپ کے انوکھےاقدام سےانٹرنیٹ صارفین پریشان trump
The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کے انوکھےاقدام سےانٹرنیٹ صارفین پریشان

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سینیٹ سے منظور شدہ انٹرنیٹ صارفین کی ذاتی اطلاعات اور معلومات کمپنیوں کو بلا اجازت فراہم کرنے سے متعلق بل پر دستخط کردیں گے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سینیٹ سے منظور کردہ بل برائے انٹرنیٹ پر دستخط کردیں گے یہ بل انٹرنیٹ صارفین کی ذاتی اطلاعات و معلومات کمپنیوں اور خریداروں کو فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

امریکی صدر کے دستخط کر بعد یہ بل فوری طور پر لاگو ہوجائے گا جس کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت حاصل ہو جائے گی کہ وہ صارفین سے متعلق ڈیٹا اور دیگر اطلاعات و معلومات بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے تیسری پارٹی کو فروخت کر سکتی ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکا کی سابقہ حکومت کے دور میں ان قوانین کے مطابق کہ جنھیں منظوری تو ملی ہے مگر ابھی ان پرعمل نہیں ہوا، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ صارفین کی اطلاعات کو فروخت کرنے سے پہلے ان سے اجازت لیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انٹرنیت صارفین کی معلومات امانت ہوتی ہیں جسے بلا اجازت کسی تھرڈ پارٹی کو فروخت کرنا بنیادی اصول و ضوابط کے خلاف ورزی ہے جس سے عام شہریوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ بل اوباما حکومت کے بل کی ترمیمی شکل ہے اور اوباما دور میں انٹر نیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت حاصل نہیں تھی کہ وہ صارفین کی معلومات کسی دوسری کمپنی کو فراہم کر سکیں حتی کے ای میل ایڈریس جیسے قدرے کم حساس معلومات کو بھی بلا اجازت نہیں دیا جا سکتا تھا۔

یاد رہے کہ اوباما دور حکومت میں پیش کیا گیا انٹرنیٹ بل کی معیاد منگل کو ختم ہوچکی ہے جس کے بعد ڈونلد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نیا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے جس کی منظوری سینیٹ اور ایوان بالا سے لے لی گئی ہے اور ایک دو روز میں صدر کے دستخط کے بعد یہ نافذ العمل ہوجائےگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں