جنرل فلن کا اعتراف صدر ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہTrump tweeted
The news is by your side.

Advertisement

جنرل فلن کا اعتراف صدر ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

واشنگٹن : ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر نے اپنے جھوٹ کا اعتراف کر کے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نائب صدر اور ایف بی آئی کے ساتھ غلط بیانی کے باعث مجھے جنرل فِلن کو عہدے سے ہٹانا پڑا ۔

تفصیلات کے مطابق مائیکل فلن کے اقبال جرم کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی میدان میں آگئے ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روسی سفیر کے ساتھ ملاقات پر نائب صدر اور ایف بی آئی کے ساتھ غلط بیانی کرنے پر انہوں نے جنرل فلن کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک موقع پر ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹرجیمز کومی سے ایک ملاقات میں صدر ٹرمپ سے انہیں جنرل فلن کیخلاف تحقیقات ختم کرنے کا کہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ہمیشہ کی طرح جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنرل فلن سے تحقیقات بھی ان کی ٹیم اور روس کے درمیان کسی قسم کا گٹھ جوڑ ظاہر نہیں کرتیں، جبکہ ساتھ ساتھ وہ ہیلری کلنٹن اور ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر شدید تنقید کر تے نظر آرہے ہیں۔

یاد رہے 2 روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مائیکل فلن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے روس اور ٹرمپ کی صدارتی انتخابی ٹیم کے درمیان گٹھ جوڑ کی تفتیش کے دوران ایف بی آئی سے جھوٹ بولا تھا جبکہ انہوں نے اب تفتیشی اہلکاروں کیساتھ تعاون کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

س سے قبل امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت صدرٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق انچارج پال مینافرٹ سمیت تین افراد پرفردجرم عائد کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 29 دسمبر کو ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل سابق فوجی جنرل فلن اور روسی سفیر کے مابین ملاقات ہوئی، ٹرمپ ٹاور میں ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔


مزید پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کےقومی سلامتی کےمشیرعہدے سےدستبردار


خیال رہے کہ مائیکل فلن کو عہدے پر تعیناتی کے ایک ماہ بعد فروری میں برطرف کردیا گیا تھا۔

امریکی سینیٹ اور کانگریس نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن کے روس سے تعلقات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی سینیٹ اور کانگریس نے مائیکل فلن پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کی۔

یاد رہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل ماہ اکتوبر میں امریکی حکومت نے روس پر ڈیموکریٹک پارٹی پر سائبر حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔

مریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جنوری میں کہا تھا کہ روس نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کوانتخاب میں کامیابی دلانے کے لئے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی، روس نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوارہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم ہیک کی اوران کی ای میلز جاری کیں تاکہ ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کونقصان پہنچایا جا سکے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں