نیویارک ٹائمز میں اپنے خلاف کالم لکھنے والے کو ڈھونڈ نکالوں گا،صدر ٹرمپ
The news is by your side.

Advertisement

نیویارک ٹائمز میں اپنے خلاف کالم لکھنے والے کو ڈھونڈ نکالوں گا،صدر ٹرمپ

واشگنٹن : امریکی صدر اور امریکی میڈیا میں تناؤ شدت اختیار کر گیا، صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اپنے خلاف کالم نگار کو ڈھونڈ نکالنے کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا، نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے کالم پر صدرٹرمپ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے نیویارک ٹائمز کو جھوٹا قرار دے دیا اور کہا ایسے کالمز بغاوت اور غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا نیویارک ٹائمز میں گمنام کالم لکھنے والے کو ڈھونڈ نکالیں گے۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے ٹویٹر پر طیش میں ردِ عمل دیتے ہوئے ایک لفظ ’غداری‘ لکھ دیا تھا۔

یاد رہے نیویارک ٹائمز میں ٹرمپ کی ٹیم کے ایک رکن کی جانب سے گمنام لکھے گئے کالم میں ٹرمپ کو نااہل اور غیر مؤثر قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، کالم میں یہ دعوی بھی کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کی ٹیم کے متعدد ارکان ٹرمپ کیخلاف مواخدہ چاہتے ہیں تاکہ انہیں ہٹایا جاسکے۔

مزید پڑھیں : امریکی جریدے میں شایع ہونے والے گم نام خط نے ٹرمپ انتظامیہ میں کھلبلی مچا دی

کالم میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جو اپنی خواہشات کے طابع، اخلاقیات سے عاری اور غیر سنجیدہ ہیں، یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ اہل کار ان کے ایجنڈے کے منفی اثرات زائل کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

خط کی اشاعت کے بعد سے خط لکھنے والے اہل کار کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ مائیک پنس اور پومپیو نے خط سے اپنی لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے وضاحتی بیانات جاری کیے تھے۔

نائب صدر کی طرف ٹویٹر پر جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے مضامین پر اپنا نام تحریر کرتے ہیں، خط لکھنے والے اور نیویارک ٹائمز دونوں کو اس حرکت پر شرم آنی چاہے۔

اس سے قبل بوب وڈورڈز کی نئی کتاب فئیر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق نئے انکشافات کے بعد بھی ہلچل مچ گئی تھی، کتاب کے مصنف کا کہنا تھا ٹرمپ کی صدارت نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہے اور وہ صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کی تحقیقات سے خوفزدہ تھے۔

کتاب میں دعوی کیا گیا تھا کہ اپریل 2017 میں جب شام میں کیمیائی حملے کی اطلاع ملی تو صدر ٹرمپ شامی صدربشار الاسد کو قتل کرانا چاہتے تھے لیکن وزیردفاع جیمزمیٹس نے بات نہیں مانی اور کہا معاملہ خود نمٹا دیں گے جبکہ ٹرمپ اور ان کا اسٹاف لوگوں سے نامناسب سلوک کرتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں