The news is by your side.

Advertisement

Tsundoku: وہ اصطلاح جو ایک دل چسپ بحث چھیڑ سکتی ہے

فلسفہ، مصوری، موسیقی کے رسیا اور انگریز مصنف سیموئیل بٹلر سے منسوب قول ہے کہ “کتابیں قیدی روحوں کی طرح ہوتی ہیں یہاں تک کہ کوئی انھیں کسی شیلف سے لے جائے اور آزاد کر دے۔”

دنیا بدل چکی ہے، کتاب پڑھنے اور مطالعے کے شوقین تو شاید اب بھی بہت ہوں، لیکن ورق گردانی کی عادت پر انٹرنیٹ اور کمپیوٹر اسکرین کا رنگ گہرا ہوتا جارہا ہے۔ یوں تو دنیا بھر میں‌ لوگ اب بھی کتب خریدتے اور پڑھتے ہیں، مگر یہ جان کر شاید آپ کو حیرت ہو کہ ان میں‌ سے بعض ایسے ہیں‌ جو صرف کتاب سجانے کے لیے گھر لاتے ہیں، اس کا مطالعہ کبھی نہیں کرتے۔

سن ڈوکُو (Tsundoku) انہی لوگوں‌ کے لیے ایک اصطلاح ہے جس نے جاپان میں‌ جنم لیا۔ اس اصطلاح میں‌ Tsun سے مراد حاصل یا اکٹھا کرنا اور جمع کرنا ہے اور Doku کا مطلب پڑھنا یا مطالعہ کرنا ہے۔

یہ اصطلاح ایسے فرد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کتب اکٹھی کرنے کا شوق رکھتا ہو اور انھیں اپنے بک شیلف میں‌ باقاعدہ ترتیب اور قرینے سے رکھ دیتا ہے اور گاہے گاہے بک شیلف کی صفائی اور کتابوں‌ پر جمنے والی گرد بھی جھاڑتا رہتا ہے، لیکن ان کا مطالعہ نہیں‌ کرتا!

ماہرین کا کہنا ہے اکثریت کے لیے یہ اصطلاح نئی بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں‌ ہے کہ یہ حالیہ برسوں‌ یا چند دہائیوں کے دوران وضع کی گئی ہے‌۔ یہ اصطلاح 1879 میں برتی گئی اور غالب امکان ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ پرانی ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں