The news is by your side.

Advertisement

استنبول میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی حکومتی درخواست مسترد کردی

انقرہ :ترکی کے الیکشن کمیشن نے استنبول کے 31 پولنگ اسٹیشنز میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ یہ درخواست حکمران جماعت آق پارٹی کی طرف سے دی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق عرب ٹی وی نے خبر دی ہے کہ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ استنبول میں 31 مقامات پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور بیوکچاکمگہ کے مقام پردوبارہ پولنگ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کی حکمراں جماعت’آق’ نے استنبول میں 31 مقامات موجود 51 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اپیل کی تھی۔آق پارٹی کے نائب صدر نے ایک بیان میں وضاحت کی تھی کہ ان کی جماعت استنبول کے تمام انتخابی مراکز میں ووٹوں کی دوبار گنتی کرانے کی کوشش کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ استنبول میں ووٹوں کی گنتی کے دوران دھاندلی کا خدشہ ہے کیونکہ اس شہرمیں ان کے حامیوں کی تعداد اپوزیشن سے زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ استنبول کے میئرکی نشست اپوزیشن نے معمولی اکثریت کے ساتھ جیت لی تھی۔

اس عہدے کے لیے وزیراعظم اوگلو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اپوزیشن کاکہنا ہے کہ استنبول میں بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی۔ حکمراں جماعت کو اس شہر میں اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہیے۔

یاد رہے کہ استنبول کی میئرشپ مسلسل پون صدی سے آق پارٹی کے پاس رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب صدر طیب اردوان اور ان کی جماعت کو استنبول کی بلدیہ سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ سمیت ملک بھر میں گزشتہ ہفتے ہونے والے بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی کو دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں بری طرح کا شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

ترک صدر اردوان کی جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں ملک بھرمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن دارالحکومت اور استنبول میں اپوزیشن جماعت نے کامیابی حاصل کی تھی۔بین الااقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کے دو بڑے اور اہم شہروں میں صدر ایردوان کی جماعت کو شکست ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں