باوردی دہشت گردوں نےسڑکوں پرنہتےعوام سےشکست کھائی، ترک صدر turk
The news is by your side.

Advertisement

باوردی دہشت گردوں نےسڑکوں پرنہتےعوام سےشکست کھائی، ترک صدر

انقرہ : ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ ایک سال قبل باوردی دہشت گردوں نے استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پرعوام سے شکست کھائی۔

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے ایک سال مکمل ہونے پر شہداء پل پر جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ گو فوجی بغاوت کو عوامی طاقت نے کچل دیا لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ آخری فوجی بغاوت نہیں تھی اوریہ بھی جانتا ہوں کہ اب بھی کون کون اقتدارپر قابض ہونے کا ارمان رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باسفورس پل پر لوگوں کے پر جوش اجتماع سے خطاب کرنا میرے لیے باعث مسرت ہے ایک سال قبل وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے ترک اداروں اور شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاہم ترک قوم پرفخر ہے جنہوں نے اس سازش کو ناکام بنا یا اور جمہوریت کو دوام بخشا۔

صدر اردگان نے کہا کہ باسفورس پل نے 15 جولائی 2016 کو خونی رات دیکھی تھی اور اسی پل پر36 ترک شہریوں نے جمہوریت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا جب کہ شہریوں کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں بلکہ وطن کا پرچم تھا جس سے شہریوں نے مسلح فوجی بغاوت کو ناکام بنایا اور اپنی آزادی اور مستقبل کا تحفظ کیا۔

 


ترکی: ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال مکمل،7 ہزار افراد نوکریوں سے برطرف 


صدر اردگان کا کہنا تھا کہ بغاوتی عناصراب بھی کسی خفیہ قیام گاہ میں در پردہ دوبارہ فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کررہے ہوں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ ترک عوام اپنے لیے ایک فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ پُر امن جمہوری حکومت کا خواب ہے جہاں سب کو یکساں حقوق ملیں۔

خیال رہے گزشتہ برس 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کی جانب سے پیش قدمی کی گئی تھی اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں سرکاری عمارتوں پر چڑھائی کی لیکن ترک صدر اردگان کے ویڈیو پیغام پر لبیک کہتے ہوئے نہتی عوام سڑکوں پر نکل آئی اور فوجی اہلکاروں کے آگے ڈھال بنے اور ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔

اس فوجی بغاوت کو کچلنے میں ڈھائی سو سے زائد عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے اور جمہوریت کا دفاع کیا جس کے باعث کہ ترک صدر نے 15 جولائی کو جمہوریت اور قومی اتحاد کا دن قرار دیتے ہوئےاس موقع پرعام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں