The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں انتخابات کا انعقاد خوش آئند ہے‘ ترک قونصل جنرل

کراچی: ترکی کے قونصل جنرل تلغہ یوسک کا کہنا ہے کہ ترک عوام نے دو سال قبل فوجی بغاوت کا بہادری سے مقابلہ کر کے ہمیشہ کے لئے آمریت کا راستہ روک دیا ہے، ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کو دوسال مکمل ہورہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ ترکی کی عوام اور حکومت باغیوں کو سزائیں دینے کے باوجود یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر گو لن کا ساتھ دینے والے کس طرح اپنے ہی لوگوں کے خلاف ٹینک شکن‘ ڈاکٹر طیاروں سے حملہ آور ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دو سو چھیالیس شہدا اور بے شمار زخمیوں نے بہادری کی جو داستان رقم کی وہ ہمیشہ ترک عوام کی ملک اور جمہوریت کی سربلندی میں یاد رکھی جائے گی۔ پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو خوش آئند قراردیتے ہوئے انہوں نے گذشتہ دنوں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی اور پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو آئندہ مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ ترکی میں 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب فوج کی جانب سے کی جانے والی بغاوت کو عوام اور پولیس نے ناکام بنا دیا تھا اور ا س کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی کی گئی تھیں، اس بغاوت میں ہونے والی جھڑپوں میں ڈھائی سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ترکی میں ناکام بغاوت کے خلاف واضح مؤقف پر پاکستان کا شکریہ: اردغان

ترکی کی اس ناکام فوجی بغاوت نے 56 سالہ سیاسی تاریخ میں چار بار کی گئی فوجی بغاوتوں کی یاد تازہ کردی، ان فوجی بغاوتوں کے نتیجے میں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر ٹکایا گیا تھا اور کئی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جیل
میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان خونی فوجی بغاوتوں میں کئی معصوم شہری جان سے گئے تا ہم اس بار عوام الناس نے ترک صدر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا ہے۔

ترکی میں پہلی فوجی بغاوت 27 مئی 1960 کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیمل گرسِل کی جانب سے کی گئی اس کامیاب فوجی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی حکومت کو معطل کردیا گیا تھا اور صدر،وزیر اعظم سمیت دیگر وزراء کو غداری اور دیگر جرائم کے الزامات میں پابند سلاسل کردیا گیا تھا بعد ازاں وزیراعظم عدنان مینڈرز کو پھانسی دے دی گئی تھی یہ مارشل لاء اکتوبر 1961 کو ختم ہوا اور منتخب جمہوری حکومت نے ملکی باگ دوڑ سنبھالی۔

دوسری مرتبہ12 مارچ 1971میں ترکی میں کئی مہینے سے جاری معاشی بد حالی ،بد امنی اور ہنگاموں کے بعد آرمی جنرل ممدوح ٹیگمک نے فوجی بغاوت کے بعد ملک کی مجموعی ذبوں حالی کے خاتمے اور معاشی و امن وامان کی بحالی کے نام پر کارِحکومت خود سنبھال لی۔

محض 9 سال بعد 12ستمبر 1980 میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان تناؤ اور تصادم تیسری بار پھر فوجی بغاوت کو دعوت گناہ دینے کا باعث بنا جس کے نتیجے میں جمہوری حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی اور آرمی چیف ایڈ مرل بولینٹ نے بغاوت کے بعد وزیراعظم کو اُن کو عہدے سے ہٹا کر خود وزیر اعظم کی نشست پر براجمان ہو گئے تھے۔

چوتھی بار 28 فروری 1997 میں مسلح افواج نے ماضی کے برعکس جمہوری اداروں پر ٹینکوں اور فوجی دستوں کے ساتھ چڑھائی تو نہیں کی تا ہم جمہوری حکومت کو کارِ حکومت چلانے کے لیے سخت سفارشات دی گئی تھیں حکومت وقت کے پاس ان سفارشات کو قبول کرنے اور نافذ کرنے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا تا ہم اس کے باوجود وزیر اعظم ترک سے جبری استعفیٰ لے لیا گیا تھا،یہ غیر اعلانیہ اورغیر سرکاری فوجی بغاوت بھی کامیاب بغاوت ثابت ہوئی پوری حکومتی مشینیری بہ شمول عدالت،تجارت، نشریات اور سیاسی قیادت فوج کے زیر تسلط رہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں