site
stats
عالمی خبریں

ترک صدر کی سزائے موت کا قانون بحال کرنے کی حمایت

استنبول : ترکی کے صدررجب طیب اردگان  کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمان اور عوام سزائے موت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے تو وہ ملک میں سزائے موت دینے کا قانون رائج کرنے کی منظوری دیں گے.

تفصیلات کےمطابق اتوار کو صدر رجب طیب اردغان نے گذشتہ ماہ ناکام فوجی بغاوت کے خلاف استنبول میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کیا جس میں ہزاروں افراد شریک تھے.

استنبول میں ہونے والی ریلی سے خطاب میں صدر اردغان نے کہا کہ ’سزائے موت کے بارے میں فیصلہ ترکی کی پارلیمنٹ کرے گی۔ میں پہلے سے یہ اعلان کر رہا ہوں کہ میں ترکی کی پارلیمنٹ کے فیصلے کو منظور کروں گا۔‘

ریلی میں موجود شرکا سے خطاب میں صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ وہ ملک میں سزائے موت پر دوبارہ پابندی عائد نہیں کریں گے۔

صدر اردغان نےایک بار پھر ریلی کے دوران بغاوت کی سازش کا ذمہ گولن کو قرار دیا اور کہا کہ اُن کی تحریک چلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا.

اردغان نے کہا کہ ’پندرہ جولائی کو ہمارے دوستوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک سیاسی،اقتصادی اور سفارتی حملوں کے خلاف مضبوط ہے اور فوج کو سبوتاژ کرنے والوں سے بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کبھی اپنی سمت سے نہیں ہٹے گا کبھی گرے گا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر ہمیں اس تنظیم کے تمام افراد کو سامنے لانا ہے اور قانونی فریم ورک کی مدد سے اُن کا صفایا کرنا ہے لیکن اگر ہم اُنھیں ایسے ہی چھوڑ دیں تو پھر ایک ریاست اور قوم کی حیثیت سے ہم اپنے دفاع کو کمزور کر رہے ہیں۔‘

’جمہوریت اور شہادت‘ نامی ریلی ترکی میں گذشتہ تین ہفتوں سے جاری صدر اردغان کی حمایت کا عروج ہے۔ تاہم اس ریلی میں کردش گروپس کو شامل ہونے کی دعوت نہیں دی گئی.

یاد رہے 15 جولائی کو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 270 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے.

مغربی ممالک ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد حکومتی کریک ڈوان کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ترکی یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یورپی یونین میں شامل ممالک میں سزائے موت دینے پر پابندی ہے.

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top