ترکی: دہشت گردی کا مقدمہ، خاتون جرمن صحافی پر سفری پابندی ختم: Journalist
The news is by your side.

Advertisement

ترکی: دہشت گردی کا مقدمہ، خاتون جرمن صحافی پر سفری پابندی ختم

انقرہ: ترکی کی عدالت نے دہشت گردی کے مقدمے میں خاتون جرمن صحافی ’میسیل تولو‘ پر سفری پابندی ختم کردی۔

تفصیلات کے مطابق جرمن صحافی ’میسیل تولو‘ پر ترکی میں دہشت گردی سے متعلق مقدمے کا سامنا ہے تاہم ترک عدالت نے سفری پابندی ختم کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن صحافی کے خلاف ترک عدالت میں دہشت گردی کے حوالے سے مقدمے کا سامنا ہے، جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں پندہ برس قید کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔

صحافی پر عائد سفری پابندی تو ختم کر دی گئی لیکن ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی، استنبول کی عدالت کی طرف سے میسیل تولو کو سفر کی اجازت دیے جانے کو ایک حیران کن فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکی: ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے پر 6 صحافیوں کو دس سال قید کی سزا

ترک عدالت کی جانب سے رواں سال اپریل میں ہی ان پر سفری پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا، جبکہ ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمے کی اگلی سماعت 16 اکتوبر کو ہوگی۔

ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل انہیں گزشتہ برس اٹھارہ دسمبر کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد تھی۔

خیال رہے کہ ان پر الزامات ہیں کہ وہ ترکی میں دہشت گردانہ مواد کی تشہیر ملوث ہے، اور ترکی کی ایک دہشت گرد تنظیم سے روابط بھی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکام کی جانب سے سخت کارروائی کی گئی اور اب تک متعدد لوگوں کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں