The news is by your side.

Advertisement

ترکی دھماکوں میں داعش کے ملوث ہونے کا امکان

انقرہ: ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلونے کہا ہے کہ انقرہ میں پیش آنے والے دوہرے بم دھماکوں کے واقعات میں داعش ملوث ہوسکتی ہے، واضح رہے کہ واقعے میں 100 کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے تھے اور ردعمل میں حکومت کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

دارالحکومت انقرہ میں ہفتہ کو ہونے والے دو بم دھماکوں نے پورے ملک کو سوگوار کردیا تھا۔

ترکی کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں دھماکوں میں داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں اور دھماکے رواں سال جولائی میں شام اور ترکی کے سرحدی علاقے سروک میں ہونے والے بم دھماکے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم اوغلو نے ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان دھماکوں میں داعش کے ملوث ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ملک میں تشدد کی لہرکے باوجود انتخابات اپنے مقررہ وقت پرہوں گے۔

واضح رہے کہ ترکی میں بائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد، مزدور طبقے اورکردوں پرمشتمل ریلی میں بم دھماکوں سے حکومت کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔.

اپوزیشن رہنما احمد کلیدار اوغلو نے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں خودکش بمبار مرد تھے۔

انادولو ایجنسی کے مطابق دھماکوں کے بعد پولیس نے داعش کے خلاف ملک بھر میں آپریشن تیز کرتے ہوئے 43 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہوگئی ہے جن میں سے تقریباً تمام لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں