The news is by your side.

Advertisement

مطیع الرحمان کی پھانسی ، ترکی نے بطور احتجاج ڈھاکا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

انقرہ: ترکی نے بنگلہ دیش کے جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دئے جانے کے خلاف بطور احتجاج ڈھاکہ سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔

ترکی کے ایک اخبار نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کے سفیر کو بنگلہ دیش سے واپس بلالیا ہے، ترک صدر طیب اردگان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نظامی ایسی کسی سزا کے حقدار نہیں تھے، ترک وزارت خارجہ نے بطور احتجاج ڈھاکا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔

اس سے پہلے ترک وزارت خارجہ کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیا گیا جس میں مطیع الرحمان کی پھانسی کو انصاف کا قتل قرار دیا گیا۔

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر کی پھانسی پر تشویش ہے۔بنگلہ دیش کے قائم مقام سفیر کواس سلسلے میں دفتر خارجہ طلب کر کےاور بنگلہ دیشی سفیر کو پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈکرایا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ اس معاملے پر پاکستان کا ردعمل کمزور ہے، ہم نے اس معاملے پر شدید تحفطات کا اظہار کیا ہے، کل ہم نے بیان جاری کیا اور آج سفیر کو طلب کرکے احتجاج کیا۔

واضح رہے کہ دو دن قبل مطیع الرحمن کو 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر پھانسی دی گئی تھی، 2010 میں بنائے جانے والے ٹریبونل کے تحت جماعت اسلامی کے رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی دی جاچکی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں