پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سطح سے آیا: ترک صدر

اشتہار

حیرت انگیز

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سطح سے آیا، سعودی ولی عہد کے اقدامات کا تحمل سے انتظار کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ فرانس سے وطن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ترک صدر رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے معاملے کی وضاحت اور ہر قسم کے اقدامات اٹھانے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے 18 افراد میں مبینہ طور قاتل موجود ہیں، خاشقجی کے قتل کے احکامات دینے والے کو ظاہر کرنا ہوگا، خاشقجی کے قتل کی ریکارڈنگ حقیقتاً خوفناک ہے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی مبینہ ریکارڈنگ سے متعلق نیویارک ٹائمز کا انکشاف

ان کا کہنا تھا کہ پیرس میں امریکی، فرانسیسی، جرمن رہنماؤں سے خاشقجی قتل پر گفتگو ہوئی، ریکارڈنگ امریکا، فرانس، کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سمیت سب کو سنوائیں، ہماری انٹیلی جنس ایجنسی نے خاشقجی قتل سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ سعودی انٹیلی جنس افسر ریکارڈنگ سن کر سکتے میں آگیا، سعودی انٹیلی جنس افسر نے کہا ایسا کچھ ہیروئن کے نشے میں کہا جاسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی صحافی جمال خوشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں