The news is by your side.

Advertisement

امریکی فوجی مورچے کے قریب گولہ باری کے بعد حکام کی نئی حکمت عملی

واشنگٹن: امریکی حکام نے شام میں جاری ترک فوج آپریشن کے تناظر میں ملکی فوج کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب شام میں جاری فوجی آپریشن کے دوران بارودی گولے امریکی فوجی مورچے کے قریب گرے جہاں درجنوں فوجی اہکار تعینات تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک فوج کی جانب سے امریکی فوجی مورچے کے قریب کی جانے والی گولہ باری ایک غلطی کا نتیجہ تھی جس کی حکام نے تصدیق بھی کی۔

امریکی وزیردفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ شام میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، اور ہماری فوج دو جنگ کرتی افواج کے درمیان موجود ہے، جن میں ایک ترک اور دوسری کرد فوج شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی شام سے امریکی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام سے مکمل طور پر امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان بھی کرسکتے ہیں، تاہم اس سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔

ایک اندازے کے مطابق شمالی شام میں امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد 1 ہزار ہے، جنہیں داعش کے خاتمے کے لیے شام بھیجا گیا ہے، ٹرمپ کے مطابق ہماری فوج اپنا مشن مکمل کرچکی ہے۔

امریکا نے ترکی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ اگر انقرہ حکومت کے خلاف معاشی پابندیاں لگانی پڑیں تو لگائیں گے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے عالمی دباؤ اور پابندی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں