The news is by your side.

Advertisement

ترکی نے روسی دفاعی نظام خریدا تو امریکی ایف 35 سے محروم رہے گا، الیوٹ انجل

واشنگٹن : چیئرمین خارجہ امور الیوٹ انجل نے روس سے دفاعی نظام خریدنے پر ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نیٹو کارکن ملک رہنا ،ہمارے ساتھ دوستی قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے روس سے دفاعی نظام کی خریداری سے باز رہنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی جانب سے روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر اصرار کے بعد امریکی کانگرس نے انقرہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں ترکی کی جانب سے روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کے اصرار پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین الیوٹ انجل نے کہا کہ ترکی کے ساتھ ہماری دوستی کی طویل تاریخ ہے، ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے مگر ہمیں صدر طیب اردوآن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر سخت تشویش ہے۔

امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ طیب ارووآن نے ترکی جیسے ایک جمہوری ملک کو استبدادی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جہاں جمہوری اقدار کو کچلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں آزادی صحافت دبائی جاتی ہے اور اپوزیشن کے بے گناہ لوگوں کو بھی جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور یہ تماشا بھی ہے کہ ترک حکومت مجرم ولادی میر پوتین کے ساتھ قربت بڑھا رہی ہے اور اس سے ایس 400 دفاعی شیلڈ کی خریداری کےلئے کوشاں ہے۔

الیوٹ انجل کا کہنا تھا کہ اگر ترکی نیٹو کارکن ملک رہنا اور ہمارے ساتھ دوستی قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے روس کے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری سے باز رہنا ہوگا ورنہ انقرہ کو امریکا کے ایف 35 جنگی طیارے نہیں مل سکیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اجلاس سے خطاب میں ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کے وائس چیئرمین مائیکل ماکول نے کہا کہ ترکی نیٹو تنظیم کا رکن ملک ہے اور ہم نے مشترکہ مفادات کےلئے ترکی کے ساتھ مل کر کام کیا ہے مگر اب ترکی اپنا راستہ تبدیل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی ہمارے روایتی حریف روس سے اس کا فضائی دفاعی نظام خرید کر واشنگٹن اور انقرہ کے تاریخی تعاون، دوستی اور شراکت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

اجلاس سے امریکی کانگرس کے رکن گاس بیلارکس نے بھی خطاب میں ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہ ترکی ہمارے علاقائی اتحادیوں قبرص اور یونان کو بھی دھمکانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں