ہفتہ, اپریل 5, 2025
اشتہار

اردو پروگرام سننے والی جرمن خاتون

اشتہار

حیرت انگیز

مجھے ’بی بی سی‘ کے پروگرام ’سیربین‘ کی بے پناہ مقبولیت کا احساس اس وقت ہوا، جب میں 1994ء میں برلن میں شارلٹن برگ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا۔ میں نے اوپر ایک فلیٹ سے سیربین کی معروف ’ٹیون‘ کی آواز سنی، جو ستیہ جیت رے کی فلم پاتر پنچلی میں روی شنکر کی موسیقی کے ایک ٹکرے سے لی گئی تھی۔

’سیربین‘ کی یہ شناختی موسیقی سنتے ہی میں بے ساختہ اوپر گیا اور فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دیکھا تو سامنے ایک نوجوان جرمن خاتون کھڑی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ’بی بی سی‘ کا پروگرام ’سیربین‘ سن رہی تھیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”جی ہاں، ہم ہی سن رہے تھے۔ اور ہم ہر شام کو یہ پروگرام بلا ناغہ سنتے ہیں جناب۔ بہت اچھا ہوتا ہے یہ پروگرام اور دنیا بھر کی خبروں سے ہم باخبر رہتے ہیں۔“

میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ اتنی اچھی اردو کہاں سیکھی۔ کہنے لگیں۔ ”ہم کئی برس پہلے سیتا پور (اتر پردیش) میں بیاہے تھے اور وہیں ہم نے اردو سیکھی، بہت پیاری زبان ہے۔“

یہ سن کر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اور میر کا یہ شعر دیر تک میرے ذہن میں گونجتا رہا؎

گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا
افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا

(سینئر صحافی، براڈ کاسٹر اور کالم نگار آصف جیلانی کی یادوں سے ایک پارہ)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں