The news is by your side.

Advertisement

پولیو وائرس بے قابو، ایک دن میں 2 نئے کیسز سامنےآ گئے

اسلام آباد : ملک میں ایک ہی دن میں دو پولیووائرس کے کیسز سامنے آگئے، دونوں کیسز کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، جس کے بعد رواں برس پولیو کیسز کی تعداد چھبیس ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق پولیو وائرس خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ، یک دن میں دوکیسز سامنے آگئے، دونوں کیسز کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، بنوں کی تحصیل وزیر کی اکیس ماہ کی بچی اور لکی مروت کی یوسی ماماخیل کے پندرہ ماہ کے بچے میں پولیووائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں برس پولیو کیسزکی تعدادچھبیس ہوگئیں، جس میں تین کا پنجاب ، تین کا سندھ ، کے پی سے تیرہ اور قبائلی اضلاع سے سات بچے متاثر ہوئے ہیں۔

گذشتہ روز وزیراعظم کےمعاون برائےانسدادپولیوبابربن عطا نے کہا تھا خصوصی انسدادپولیومہم کاپہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے ، مہم میں 67 اضلاع میں95 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائےگئے، ملک کے کسی بھی حصے سےتشدد یا بدتمیزی کی اطلاع نہیں ملی۔

یاد رہے 3 روز قبل بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈیڑھ سالہ بچے میں پولیووائرس کی تصدیق ہوگئی تھی، وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق متاثرہ بچے کی پولیو ویکسی نیشن نہیں ہو سکی تھی، متاثرہ بچے کے والدین پولیو ویکسی نیشن سے انکاری تھے۔

مزید پڑھیں : ضلع بنوں میں ڈیڑھ سالہ بچے میں پولیووائرس کی تصدیق

خیال رہے پولیو میں اضافے کو دیکھتے ہوئے پولیو ویکسی نیشن کے لیے عمر کی حد میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا جس کے بعد راولپنڈی اور پشاور میں 10 سال تک کے بچوں کی بھی پولیو ویکسی نیشن کی جائے گی۔

چند روز قبل کراچی اور لاہور سمیت 6 بڑے شہروں سے نئے لیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی، کوئٹہ کے ریلوے پل اور طاؤس آباد کے علاقوں، حیدر آباد میں تلسی داس پمپنگ اسٹیشن، راولپنڈی میں صفدر آباد اور پشاور کے شاہین ٹاؤن کے سیوریج میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

لاہور میں آؤٹ فال ایف، جی، ایچ کے سیوریج میں جبکہ کراچی کے سہراب گوٹھ، راشد منہاس روڈ، چکورا نالہ اور کورنگی نالہ کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی۔

خیال رہے عالمی ادارہ صحت نے پولیو کیسز رجسٹرڈ ہونے کے سبب پاکستان پر پہلے سے عائد سفری پابندیوں میں توسیع کردی ہے۔

واضح رہے اس وقت دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ملک ہیں جہاں اب تک پولیو کا مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں