بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

یورپ میں دو نئے کیڑے انسانی غذا کا حصہ قرار

اشتہار

حیرت انگیز

یورپی یونین نے آٹے کی سُنڈی کی طرح لاروے (میگٹ) اور جھینگر کو انسانی غذا کا حصہ بناتے ہوئے فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپ میں لاروا اور جھینگر لوگوں کو بطور خوراک فروخت کیے جانے والے کیڑوں کی تیسری اور چھوتھی قسم ہوں گے جبکہ ایسی مزید آٹھ درخواستیں منظوری کی منتظر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خوراک کی پیدوار سے بھی ضرر رساں گیسوں کا اخراج ہوتا ہے اور یہ گیسیں ایک چوتھائی گلوبل وارمنگ کی ذمہ دار ہیں۔ مویشی میتھین گیس خارج کرتے ہیں، جو فضا میں کم مدت کے لیے رہتی ہے لیکن یہ ایک اہم گرین ہاؤس گیس ہے۔

- Advertisement -

دوسری طرف مویشیوں کی چراگاہیں بنانے کے لیے جنگلات کاٹنے پڑتے ہیں اور پھر اگائی جانی والی فصلوں کا تین چوتھائی حصہ مویشیوں کو ہی کھلانے میں صرف ہو جاتا ہے۔

اگر تلی ہوئی سُنڈیاں اور کیڑے مکوڑے گوشت سے بنے اسٹیکس اور ہیمبرگرز کی جگہ لے لیں تو یہ متبادل مختلف جانوروں کو معدومیت سے بچانے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے امریکی ماحولیاتی تحقیقی ادارے ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ میں فوڈ پروگرام کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر ٹِم سرچنگر نے کہا کہ دنیا بھر میں گوشت کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنا اتنا بڑا چیلنج ہے کہ ہمیں اس کا کوئی پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے کو آزمانہ ہو گا۔

یورپی کمیشن کی جانب سے ان دو نئی قسم کے کیڑوں کو خوراک میں شامل کرنے کا مطلب غذائی انتخاب میں لازمی طور پر تبدیلی کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ماحول میں بہتری کے ساتھ ساتھ صحت کو بہتر بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

 اس تناظر میں یورپی کمیشن نے گزشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ کسی کو یہ کیڑے کھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

کیڑوں کو خوارک میں شامل کرنے سے متعلق قوانین میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ غذائی کیڑے (لاروا اور جھینگر) صرف ان لوگوں کے استعمال کے لیے محفوظ ہیں، جن کو ان سے الرجی نہیں ہے۔

 اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء، جن میں کیڑے بطور خوراک شامل ہوں، ان پر اس حوالے سے معلوماتی لیبل لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں