The news is by your side.

Advertisement

یمنی حکومت اور حوثی باغی مذاکرات کے لیے راضی ہوگئے

صنعا: سعودی اتحادی افواج کی جانب سے یمن میں جاری فوجی آپریشن کے بعد یمنی حکومت اور حوثی باغی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق یمن کی مرکزی بندرگاہی شہر الحدیدہ میں سعودی اتحادی افواج کی جانب سے حوثی باغیوں کے انخلا کے لیے میگا آپریشن جاری ہے، جبکہ حوثی باغی اور یمنی حکومت دونوں فریقین مذاکرت کے لیے راضی ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے یمن مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مذاکرات کی میز پر ہوں گے۔


الحدیدہ کو تمام حوثی باغیوں سے خالی کرائیں گے: یمنی صدر


مارٹن گریفتھس نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک ہفتے کے اندر اس حوالے سے دونوں برسرِپیکار پارٹیوں کے سامنے کوئی حل رکھے گی، یہ پیش رفت بندرگاہی شہر الحدیدہ پر قبضے کی لڑائی کے دوران سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب عرب اتحاد کی جانب سے مذاکرات سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا جبکہ اتحاد کی جانب سے یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ حوثی باغیوں سے مذاکرت سے قبل الحدیدہ بندرگاہ خالی کرانے کا مطالبہ کریں گے۔


سعودی اتحادی افواج کی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی


مذاکرات سے متعلق اس اہم فیصلے کے بعد اب یہ امید کی جارہی ہے کہ یمن میں جاری تین سالہ خانہ جنگی اب ختم ہوجائے گی، اس لڑائی میں اب تک دس افراد ہلاک جبکہ لاکھوں لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں