The news is by your side.

Advertisement

امریکی و افغان فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ

نیویارک: افغانستان میں پہلی دفعہ طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے مقابلے میں امریکی اور افغان فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ رواں برس کے پہلے تین ماہ میں افغان سیکیورٹی فورسز اور ان کے بین الاقوامی اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد طالبان کے حملوں میں مارے جانے والے شہریوں سے زیادہ ہے۔

رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں افغانستان اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں کی فورسز کے حملوں میں 305 عام شہری مارے گئے جبکہ طالبان حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 227 تھی۔

مزید پڑھیں: کابل: امریکی فضائی حملہ، ملا عبدالمنان سمیت 29 طالبان ہلاک

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ افغان فوج اور بین الاقوامی فورسز کی کارروائیوں میں زیادہ تر ہلاکتیں فضائی حملوں میں ہوئیں۔

افغانستان میں مجموعی طور پر شہریوں کی اموات میں کمی آئی ہے لیکن ملکی و غیرملکی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش برقرار ہے۔

افغانستان میں یکم جنوری سے 31 مارچ تک 581 شہری ہلاک اور 1192 زخمی ہوئے جن میں 150 بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے اعدادو شمار 2009 میں اکٹھے کرنا شروع کردئیے تھے جس کے بعد سے عالمی ادارہ وقفے وقفے سے اپنی رپورٹ جاری کرتا رہتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2009 سے اب تک افغانستان میں 75 ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں