متحدہ عرب امارات، جنگلی جانوروں کو پالتو جانور بنا کر رکھنے پر پابندی
The news is by your side.

Advertisement

متحدہ عرب امارات، جنگلی جانوروں کو پالنے پر پابندی

دبئی: متحدہ عرب امارات میں جنگلی جانوروں کو پالنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ان جانوروں میں شیر، چیتا اور دیگر شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے شیر اور چیتے جیسے جنگلی جانوروں کو بطور پالتو جانور رکھنے یا پالنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور ایسے تمام جانوروں کو انتظامیہ کے حوالے کرنے کا حکم جاری ہوا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق : ’نئے قانون کے تحت تمام طرح کے جنگلی اور پالتو مگر خطرناک جانوروں کی خرید وفروخت اور ان کی ملکیت پر پابندی ہوگی۔‘ان جانوروں کو اب صرف چڑیا گھروں، وائلڈ لائف پارک، سرکس اور بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق جو کوئی بھی شیر چیتے یا کسی بھی قسم کے خطرناک جانوروں کو عوامی مقامات پر لائے گا یا گھر میں رکھے گا تو اسے چھ ماہ جیل اور ایک لاکھ 36 ہزار ڈالر یعنی پانچ لاکھ درہم جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جب کہ کوئی بھی شخص دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے جانوروں کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو جرمانہ سات لاکھ درہم تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عام پالتو جانوروں کو رکھنے والے بھی اس نئے قانون سے متاثر ہوں گے جیسا کہ کتے رکھنے والوں کو پرمٹ لینا ہوگا اور عوامی مقامات پر جانوروں کو لے جاتے ہوئے انھیں باندھ کر رکھنا ہوگا۔

جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک لاکھ درہم جرمانے کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی جرمانہ ان افراد کو بھی ہو سکتا ہے جو اپنے جانوروں کو ویکسین نہیں لگوائیں گے۔

قدرتی تیل سے مالا مال خلیجی ممالک میں بعض افراد کے لیے شیر، چیتا رکھنا اونچے مرتبے کی نشانی سمجھا جاتا ہے لیکن اب ایسا کرنے پر انھیں جیل یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے جنگلی بلیوں کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے کئی افراد کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر اکثر دیکھی جاتی رہی ہیں جن میں شیر گاڑی کی پچھلی نشستوں پر براجمان ہوتے ہیں جب کہ اکتوبر میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دبئی کے ساحل پر پانچ شیروں کو دکھایا گیا تھا۔

حکام کو متحدہ عرب امارات کے شہریوں میں بڑھتے ہوئے اس خطرناک رجحان سے عام لوگوں کی پریشانیاں اور لاحق خطرات پر شدید تشویش تھی جس کے سدباب کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں