The news is by your side.

Advertisement

ہوا سے پانی کا حصول، اہم خلیجی ملک تاریخ رقم کرنے کے قریب

ابوظہبی: ابوظہبی نے کمرشل بنیادوں پر پائیدار ذرائع سے پانی کی بلا تعطل فراہمی کا عظیم الشان منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ میں قائم پانی ٹیکنالوجیز کی کمپنی ایکووم اور جامعہ خلیفہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اشتراک سے رواں ماہ ابوظہبی کے مصدر سٹی میں شروع کیا جارہا ہے۔

رواں ماہ شروع ہونے والا یہ منصوبہ ایکووم کی اس ٹیکنالوجی کی استعداد کا بھی جائزہ پیش کرے گا جوکہ بڑے پیمانے پر واٹر جنریشن ٹیکنالوجی کو قابل تجدید توانائی ذرائع سے ملا کر ترتیب دیا گیا ہے ، اسکی صلاحیت میں موجودہ اور مستقبل کے پائیدار آبی منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ اے ڈبلیو جی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوگا، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ماحول سے پانی کو حاصل کرتے ہوئے قابل تجدید توانائی کے ذریعے استعمال میں لایا جاتا ہے، کاربن سے پاک یہ ٹیکنالوجی ، صاف پانی میسر کرتی ہے جوکہ سرسبز مستقبل کی تعمیر کیلئے بنیادی ضرورت ہے، یہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ہدف نمبرچھ کے حصول میں بھی معاون ہے جوکہ سب کیلئے پائیدار پانی و سینی ٹیشن کی فراہمی سے متعلق ہے۔عالمی مارکیٹ تجزیہ کے مطابق پانی کی یہ ٹیکنالوجی ایک ایسی مارکیٹ کو فروغ دے گی جوکہ دنیا بھر میں کمپاؤنڈ سالانہ ترقی کی شرح پچیس فیصد رکھتی ہے ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں یہ شرح تیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

مصدر سٹی میں پائیدار رئیل اسٹیٹ کے ای ڈی عبداللہ بلالا کا کہنا تھا کہ انسانی اور ماحولیاتی صحت کے تمام پہلو میں پانی کی اہمیت ناگزیر ہے، اسی لئے پانی ٹیکنالوجیز میں مستقل و محفوظ پانی ذریعہ پر توجہ دی جارہی ہے۔

ایکووم کے سی ٹی او رابرٹ ووڈ کا کہنا تھا کہ سرسبز دنیا کی جانب منتقلی کی معاونت اور واٹر سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پائیدار پانی کی فراہمی کی خاطر ہمیں اپنے نظم کو سو فیصد قابل تجدید توانائی سے مزید کرنا ہوگا ، ہماری جدید ترین ٹیکنالوجیز کو قدرت اور فطرت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے تاکہ پائیدار، دیرپا حل فراہم کیئے جاسکیں۔

جامعہ خلیفہ میں شعبہ میکنیکل انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور مصدر انسٹی ٹیوٹ سولر پلیٹ فارم کے بانی و سربراہ ڈاکٹر نکولس کالویٹ کا کہنا تھا کہ پہلے ہم نے شمسی توانائی اور تھرمل انرجی پر توجہ مرکوز رکھی ، اب تحقیق و ترقی کو کثر جہت بناتے ہوئے تازہ پانی کی صاف پیداوار پر بھی توجہ دی جارہی ہے ، درحقیقت امارات میں شمسی توانائی اور پانی ، تحقیق و ترقی کے کلیدی ستون ہیں ، یہ منصوبہ بارہ ماہ چلے گا جس سے پورے سال کے موسمیاتی سائیکل کی کارکردگی کا قابل قدر ڈیٹا میسر آئے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں