The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ ، جرمنی اور آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو مقبوضہ کشمیر سفر کرنے سے روک دیا

لندن / مانچسٹر / برلن: برطانیہ ، جرمنی اور آسٹریلیا کی حکومتوں نے بھارت کے ممکنہ آپریشن کے پیش نظر اپنے شہریوں کو  مقبوضہ کشمیر سفر کرنے سے روک دیا۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تینوں ممالک کے حکام نے اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے غیر ملکی سیاحوں کو مقبوضہ وادی چھوڑنے کی ہدایت کے بعد برطانیہ، جرمنی اور آسٹریلیا کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی۔

برطانوی، آسٹریلوی اور جرمن شہریوں کو جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کا ہدایت نامہ خارجہ اوردولت مشترکہ کے آفس سے جاری کیا گیا۔ برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمشنر مقبوضہ وادی میں بگڑتی ہوئی صورتحال کانہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جس کے تحت شہریوں کے جموں وکشمیر کا سفر کرنے سے متعلق خبردار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کشمیر میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے جارہا ہے، سید علی گیلانی

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جنگ کا ماحول بنا دیا ہے: مشعال ملک

جرمنی کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں موجود شہری جلد از جلد وادی کو چھوڑیں اور بالخصوص امرانتھ یاترا پر گئے ہوئے یاتری بھی جموں کشمیر سے واپس آجائیں۔

آسٹریلیا کے وزارت خارجہ کی جانب سے بھی شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ جو مقبوضہ کشمیر میں موجود ہیں وہ فوری طور پر علاقہ چھوڑ دیں اور جو جانے کے خواہش مند ہیں وہ فی الحال رک جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں