برطانیہ: نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ وسیع -
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ وسیع

لندن: برطانوی حکومت نے نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ کار وسیع کردیا جس کے تحت کسی مذہب بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار کو جرم تصور کیا جائے گا۔

برطانوی اخبار کے مطابق حکومت نے نفرت پر مبنی جرائم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے تحت اب خواتین اور مردوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اس طرز کا عمل جرم تصور کیا جائے گا۔

حکومت نے نئے قانون کی عملداری کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جو برطانیہ میں ہونے والے واقعات اور پہلے سے موجود جرائم کی درجہ بندی میں نقائص کی نشاندہی کرے گا جنہیں دور کر کے بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔

برطانوی اخبار کے مطابق حکومت کی جانب سے ماضی میں منظور کیے جانے والی قوانین کی ترمیم کی جائے گی اور نئے جرائم جو بالخصوص نفرت پر مبنی ہیں اُن کی تعریف واضح کی جائے گی۔

کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’نفرت کا اظہار مرد، خاتون یا کسی کے بھی خلاف کیا جائے گا تو اسے جرم ہی تصور کیا جائے گا اور کسی کو جنس کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جائے گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، اس قانون کے اطلاق سے مذہب مخالف واقعات کی روک تھام بھی ممکن ہوگی‘۔

وزیرداخلہ ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ ’نفرت پر مبنی جرائم برطانوی روایات سے براہ راست متصادم ہیں کیونکہ ریاست ہمیشہ باہمی احترام اور رواداری کا درس دیتی ہے، ہم اس بیماری کو پوری طرح سے ختم کرکے ہی دم لیں گے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس قانون پر عملدرآمد کے لیے نیا ایکشن پلان ترتیب دیا تاکہ تعصب اور نسل پرستی کو ختم کر کے نفرت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا جائے اور برطانیہ کو جرائم سے پاک کیا جائے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں