اسلام آباد: برطانوی ہائی کمیشن نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے فیصلے کو پاکستان اور برطانیہ کی مشترکہ کوشش قرار دے دیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں فرد جرم عائد کرنے میں مدد ملی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ایک شخص کو لندن میں دس سال قبل ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا، کیس کے نتائج پاکستان اور برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے حاصل ہوئے‘۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں نامزد افراد کو برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ کارروائیوں کے بعد سزا سنائی گئی، لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے پہلے قتل کی تحقیقات کیں اور پھر ثبوت پاکستانی استغاثہ کو فراہم کیے‘۔
مزید پڑھیں: 10 سال بعد ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ، تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’میٹروپولیٹن پولیس کے ثبوت پاکستان میں عدالتی کارروائی کے دوران استعمال کیے گئے، متحدہ قومی موومنٹ کی اہم شخصیت سے عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات تکمیل کو پہنچ گئی، انہیں 16 دسمبر 2010 کو لندن میں قتل کیا گیا، دو افراد نے عمران فاروق پو اینٹ اور تیز دھار آلے سے وار کیا جس کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوئے‘۔
برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ فردِ جرم انصاف کی فراہمی کے لیے دونوں ملکوں کے اداروں کی کوششوں کی علامت ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ہائی کمیشن کے زیرِ انتظام قانونی تعاون کے باعث شواہد پاکستان میں استغاثہ کو دیے گئے۔
یاد رہے کہ آج اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 10 برس بعد ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں ملزم خالد شمیم، معظم علی اور محسن کو عمر قید کے ساتھ مقتول کے ورثا کو دس دس لاکھ روپے ادا کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔