The news is by your side.

برطانیہ اور نیوزی لینڈ کا ورکنگ ویزے میں توسیع کا فیصلہ

لندن: برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے ایک دوسرے کے شہریوں کے لیے ورکنگ ہالیڈے ویزا میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کی تھی۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ اور نیوزی لینڈ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنے ملکوں میں زیادہ دونوں کے قیام اور کام کرنے کی اجازت دیں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کی کیوی ہم منصب جیسنڈا آرڈرن نے ملاقات کے دوران یوتھ موبلٹی اور ورکنگ ہالیڈے اسکیمز میں توسیع پر اتفاق کیا۔

درخواست دہندگان کے لیے عمر کی حد 30 سے ​​بڑھ کر 35 ہو جائے گی، اور میزبان ملک میں غیر ملکیوں کے قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت اب 3 سال ہو گی۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ اسکیم 18 سے 30 سال کے افراد کے لیے تھی۔

برطانوی ہوم سیکریٹری پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اور بھی زیادہ نوجوان برطانویوں اور نیوزی لینڈ کے باشندوں کو اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے، زندگی بھر کے روابط بنانے اور اپنے میزبان ملک کی ترقی حصہ ڈالنے کا موقع ملے گا۔

کیوی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن خود بھی زمانہ طالب علمی میں برطانیہ میں قیام کر چکی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے والے بہت سے کیویز میں سے ایک تھی، اور ہم برطانویوں کو نیوزی لینڈ میں بھی ایسا ہی شاندار تجربہ پیش کرنے کے منتظر ہیں۔

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کی تھی جو جمعرات کو ختم ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں