منی لانڈرنگ کی روک تھام کےلیے برطانیہ نے گولڈن ویزہ اسکیم ختم کردی golden visas
The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کی روک تھام کےلیے برطانیہ نے گولڈن ویزہ اسکیم ختم کردی

لندن : برطانوی حکومت نے کاروباری و دولت مند افراد کےلیے متعارف کروائی گئی گولڈن ویزا اسکیم روس، بھارت اور چین کےلیے بند کردی۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں منی لانڈرنگ ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں اضافے کے باعث برطانوی حکومت نے گولڈن ویزا اسکیم بند کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اٹھایا گیا اقدام منی لانڈرنگ ، انسانی اسمگلنگ و دیگر جرائم کے خلاف آپریشن کا حصّہ ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی جانب سے گولڈن ویزا اسکیم کو سنہ 2008 میں مالی طور پر مستحکم اور کاروباری شخصیات کےلیے متعارف کروایا گیا تھا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گولڈن ویزا اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے برطانوی شہریت حاصل کی تھی، جس سے برطانیہ سے 4 ارب 98 کروڑ پاؤنڈ ریونیو کمایا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گولڈن ویزا اسکیم کی عوامی سطح پر پذیرائی اور اربوں پاؤنڈ کا ریونیو ملنے کے باوجود برطانوی حکومت نے منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اسکیم معطل کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطانیہ نےیہ فیصلہ ویزے کے حامل افراد کا منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے باعث کیا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ اسکیم کا غلط استعمال کرنے والے افراد میں زیادہ اکثریت بھارتی ارب پتیوں کی ہے، جنہوں نے گولڈن ویزہ حاصل کیا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سنہ 2009 سے اب تک 76 بھارتی ارب پتی گولڈن ویزہ اسکیم کے ذریعے برطانیہ کے مستقل شہری بن چکے ہیں جبکہ 2013 میں سب سے زیادہ 16 بھارتی ارب پتیوں نے اس سے استفادہ کیا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس 1 ہزار چینی و روسی ارب پتیوں نے گولڈن ویزہ اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت منی لانڈرنگ کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو گولڈن ویزہ اسکیم کو غلط استعمال کیے جانے کے شواہد ملے تھے جس کے بعد حکومت نے اسکیم ختم کردی۔

گولڈن ویزہ اسکیم کے ذریعے برطانوی شہریت، رہائش اور کاروباری سہولت باآسانی مسیر آتی تھی۔

عام ویزے کے مقابلے میں گولڈز ویزہ حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں