برطانیہ داعش کی رکنیت حاصل کرنے والے شہریوں کو واپس لے، امریکا foreign fighters
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ داعش کی رکنیت حاصل کرنے والے شہریوں کو واپس لے، امریکا

لندن : امریکا کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ برطانوی حکومت شام میں دوران جنگ گرفتار ہونے والے برطانوی شہریوں کو واپس لے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے ایک اعلیٰ عسکری شخصیت نے برطانیہ سے کہا ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے برطانوی شہریوں کو واپس لیا جائے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی اسپیشل او پی ایس کے کمانڈر میجر جنرل پیٹرک رابرسن نے برطانوی حکومت کو داعش کے عسکری ونگ کی رکینت حاصل کرنے والے لندن کے شہریوں کو واپس لینے کا کہا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے شام جاکر خانہ جنگی میں شرکت کرنے والے الشفیع اور الیگزنڈا کوٹے کی برطانوی شہریت منسوخ کردی ہے۔

برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ امریکا میں دونوں دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے بات کررہا ہے۔

داعش سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں الشفیع اور الیگزنڈا نے رواں برس اگست میں شام کی جیل سے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے متنازعہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی برطانوی شہریت چھینی جاچکی ہے۔

امریکی کمانڈر میجر جنرل پیٹرک کا کہنا تھا کہ امریکا اور سیرین ڈیموکریٹک فورس مشترکا طور پر غیر ملکی جنگجوؤں کو واپس ان کی حکومتوں کے حوالے کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ میجر جنرل پیٹرک رابرسن پہلے کمانڈر ہیں جنہوں نے عوامی سطح اپنے شہریوں کو واپس لینے کے لیے برطانیہ کو کہا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹ فورس (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام سے 700 غیر ملکی جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا جن کا تعلق برطانیہ سمیت 40 الگ الگ ممالک سے ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایس ڈی ایف کے ترجمان نے گرفتار ہونے والے برطانوی شہریوں کی تعداد سے آگاہ نہیں کیا البتہ اتنا بتایا کہ ایک درجن سے زائد برطانوی شہری حراست میں ہیں۔

خیال رہے کہ داعش کے عسکری ونگ سے تعلق رکھنے والے الشیخ الشفیع اور الیگزنڈا کوٹے کو رواں برس جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ ہی برطانوی حکومت نے خطرناک جہادی گروپ جون کے دو جنگجوؤں الشفیع الشیخ اور الیگزنڈا کو امریکا کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا تھا تاکہ وہاں جرم ثابت ہونے کے بعد سزا دی جاسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں