The news is by your side.

روس کے چھ میزائل ناکارہ کردیئے، یوکرینی صدر کا بڑا دعویٰ

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی فوج نے روس کی جانب سے داغے گئے چھ میزائلوں کو گرادیا، یہ روس کا بہت بڑا نقصان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بات انہوں نے اپنے آن لائن خطاب میں کہی، انہوں نے اپنے خطاب میں جنوبی حصے میں فوجی کامیابی کا ذکر کیا تاہم مشرقی حصے میں کسی کامیابی ذکر نہیں کیا حالانکہ اس سے قبل اس کا اشارہ فوجی حکام دے چکے تھے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کا آن لائن خطاب میں کہنا تھا کہ اس صبح پانچ یا پھر چھ روسی ایکس 101 میزائلوں کو گرایا گیا ہے۔ یہ روس کا بہت بڑا نقصان ہے جس سے بہت سے یوکرینیوں کی جانیں بچی ہیں۔

ان کے مطابق گرائے جانے والے میزائلوں میں سے چار کو جنوبی ضلع میں نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ روئٹرز اپنے آزادانہ ذرائع سے یوکرینی صدر کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کرسکا جبکہ روس کی جانب سے بھی اس حوالے سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اگرچہ یوکرینی حکام کی جانب سے تفصیلات نہیں دی گئیں تاہم کئی ملٹری بلاگرز نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کیں جن میں بتایا گیا تھا کہ بلاکییا کے اطراف میں لڑائی ہو رہی ہے۔

بلاکییا ملک کے مشرق میں واقع قصبہ ہے جہاں 27 ہزار کے قریب لوگ رہائش پذیر ہیں یہ علاقہ خرکیف اور روس کے زیرقبضہ علاقے ازیوم کے درمیان واقع ہے۔

یہ شہر ریلوے کا بہترین نظام رکھتا ہے جس کو اب ماسکو اپنا فوجی سازوسامان پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

زیلنسکی کے مشیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ صدر کی جانب سے خرکیف کے علاقے میں آپریشن کے حوالے سے اہم خبر آنے والی ہے۔

روئٹرز سوشل میڈیا پر چلنے والی پوسٹس کی بھی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کرا سکا صرف خیرسن کے علاقے میں یوکرین کی جانب سے پیش رفت کی بہت کم اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ وہ علاقہ ہے جو فرنٹ لائن پر ہے اور یہاں کے صحافیوں کی سرگرمیاں محدود ہیں اسی لیے محدود خبریں ہی باہر آتی ہیں۔

روس اور یوکرین جنگ روکنے کیلئے اقدامات کریں، اقوام متحدہ 

دوسری جانب اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ جنوبی یوکرین میں واقع پاور پلانٹ کے اردگرد علاقے کو غیر فوجی بنایا جائے۔

منگل کو جاری ہونے والے بیان میں جنرل سیکریٹری انتونیو گورتریس کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو علاقے میں جنگ روکنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں فوجی سرگرمیوں سے باز رہنے کے معاہدے کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ روس علاقے سے افواج کے انخلا کا عہد پورا کرے اور یوکرین اس کے اندر نہ گھسنے کے عزم پر قائم رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں