The news is by your side.

Advertisement

یوکرین میں مسجد پر بمباری کا دعویٰ، ترکی شہری موجود ہیں

کیف: یوکرین کے شہر ماریوپول کی ایک مسجد میں پناہ لینے والے ترکی شہری پھنس گئے ہیں، یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے مسجد پر گولہ باری کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ماریوپول کی ایک مسجد میں ترکی شہریوں نے پناہ لے لی ہے، انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ ماریوپول کی مسجد میں پھنسے ترکوں کو نکالنے کے حوالے سے جلد پیش رفت ہوگی۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مسجد پر گولہ باری کی گئی ہے، جہاں 80 سے زائد بالغ اور بچے پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تاہم سلطان سلیمان مسجد فاؤنڈیشن کے سربراہ نے کیف کی ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ ترک شہریوں کو پناہ دینے والی مسجد پر گولہ باری کی گئی ہے۔ اسماعیل ہاشی اوغلو نے ترک نیوز پورٹل کو بتایا کہ مسجد سے 700 میٹر دور ایک بم گرا، لیکن ہم ٹھیک ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ شہر کو خالی کرنا بہت خطرناک تھا کیوں کہ شہر شدید گولہ باری کی زد میں ہے لیکن روس نے ماریوپول میں ترک شہریوں کو جمع کرنے کے لیے بسوں کے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

روس کا یوکرین پر مہلک فضائی حملہ

میولوت چاؤش اوغلو نے کہا کہ ان کے شہریوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے، اور بسیں ان کو نکالنے کے لیے انتظار کر رہی ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سے مدد مانگی ہے۔

دوسری طرف یوکرین کوشش رہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات میں ترکی اور اسرائیل اس کی جانب سے ثالثی کریں، یوکرین کے صدارتی مشیر اور مذاکرات کار میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک مقام اور ایک فریم ورک کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق میخائیلو نے قومی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ معاملات جیسے ہی کوئی شکل اختیار کرتے ہیں، ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی اور پھر امن مذاکرات میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں