The news is by your side.

یوکرین کا اقوام متحدہ سے روس کا ’’ویٹو پاور‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ

یوکرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے سزا دے اور سلامتی کونسل میں اسکا ویٹو پاور اختیار ختم کرے۔

زیلنسکی نے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں اقوام متحدہ کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور ہم فوری طور پر اس کے لیے سزا چاہتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر زیلنسکی کا یہ بیان روسی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے یوکرین میں فوج کو مزید متحرک کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔

صدر زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری ریاست کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے پر روس کے خلاف اقوام متحدہ ایک خصوصی ٹربیونل بنائے جو روس کو نقصانات کی تلافی کا پابند کرے جبکہ سلامتی کونسل کے ممبر کے طور پر اس کا ویٹو کا اختیار بھی ختم کرے۔‘

دوسری جانب ایک اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ہنگامی اجلاس میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ذاتی اور شعبہ جاتی دونوں طرح کی نئی پابندیوں کے اقدامات کا جائزہ لیں گے اور انہیں اپنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک رسمی اجلاس میں حتمی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے گزشتہ روز یوکرین میں افواج کی تعداد میں اضافے کے لیے فوج کو جزوی طور پر تیار رہنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین جنگ : پوتن نے روسی ریزرو فوج کی تعداد بڑھانے کا حکم دے دیا

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر پوتن نے یہ اعلان بدھ ہی کے دن ٹی وی پر نشر کردہ خطاب میں کیا، انہوں نے کہا کہ تیاری کا یہ حکم فوج کی ریزرو اور دیگر یونٹوں میں شامل شہریوں کے لیے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں