The news is by your side.

جڑواں بہنوں کی 102ویں سالگرہ

لندن: برطانیہ کی معمر ترین جڑواں بہنیں 102 برس کی ہوگئیں، فلس اور ایرین کا کہنا ہے کہ اُن کی صحت و تندرستی کا راز مچھلی کا استعمال ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو عالمی جنگیں اور برطانیہ کے 20 وزرائے اعظم دیکھنے والی جڑواں بہنوں نے 20 نومبر کو اپنی 102 ویں سالگرہ منائی، اس تقریب میں اہل خانہ اور قریبی دوستوں نے شرکت کی۔

ایرین اور فلس 20 نومبر 1916 کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں انہوں نے نہ صرف ایک صدی دیکھی بلکہ دو عالمی جنگوں کے بارے سمیت برطانیہ کے وزرائے اعظم کے بارے میں بھی وہ اچھے سے جانتی ہیں۔

مزید پڑھیں: جاپان کا معمر شہری دنیا کا طویل العمر شخص قرار

فلس اور ایرین ویسے تو برطانیہ کے الگ الگ شہروں میں اپنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم ہیں مگر پیدائش کا دن دونوں شروع سے ہی ایک ساتھ مناتی ہیں، دونوں بہنوں نے اپنی طویل العمری کا راز مچھلی کھانے اور خوش رہنے کو قرار دیا۔

والدہ کے ساتھ دونوں بہنوں کی یادگار تصویر، بشکریہ ڈیلی میل

فلس کا کہنا تھا کہ ’والدہ کے نزدیک ہماری پیدائش اہل خانہ کے لیے خوش قسمتی تھی کیونکہ اُس کے بعد معاشی حالات بہتر ہوئے، ہم نے 8 ماہ کی کم عمری میں بچوں کے شو میں حصہ لیا اور پہلا انعام جیتا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ کا یقین تھا کہ جب تک ہم خود نہ فیصلہ کرلیں کوئی بھی ہمارے قسمت کو نہیں بدل سکتا ‘۔

ایرین کا کہنا تھا کہ ’اچھی خوراک اور ذہنی سکون عمر کے بڑھنے میں مدد فراہم کرتا ہے، ہم نے بچپن سے ہی اپنی خوراک کا بہت زیادہ خیال رکھا اور باہر کی چیزیں کھانے سے احتیاط کی‘۔

یہ بھی پڑھیں: اے جذبۂ دل گر میں چاہوں: ضعیف العمر تیراک نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا

اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی عمر میں باہر سے کبھی سینڈویچ تک خرید کر نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی ایسی نوبت آئی کہ کوئی سافٹ ڈرنک یا مشروب پیا ہو‘ْ

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں بہنوں کی پیدائش پہلی جنگ عظیم کے دوران ہوئی جس کے بعد انہوں نے لندن میں تعلیم حاصل کی اور پھر ملازمت بھی کی’۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے معمر ترین جڑواں بھائیوں کا اعزاز بیلجیئم کے دو بھائیوں پیئر اور پال نامی بھائیوں کو حاصل ہے جن کی عمریں اس وقت 104 برس ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں