شامی حکومت کی ظلم کی انتہا، امدادی سامان میں موجود 70فیصد دوائیں نکال لیں
The news is by your side.

Advertisement

شامی حکومت کی ظلم کی انتہا، امدادی سامان میں موجود 70فیصد دوائیں نکال لیں

غوطہ : شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں اقوام متحدہ کی امداد پہنچ گئی لیکن شامی حکومت نے امدادی قافلے سے سترفیصد دوائیں نکلوا دیں جبکہ بمباری اورجھڑپوں میں جاں بحق افراد کی تعداد ایک سوستر بچوں سمیت 740 سے زائد ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ کی قیمت ادا کرتے غوطہ کے معصوم شہریوں پر زندگی تنگ ہوگئی ، شورش زدہ مشرقی غوطہ میں اقوام متحدہ کے چھیالیس ٹرک امدادی سامان لے کر پہنچ گئے لیکن شامی حکومت نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے امدادی سامان میں موجودسترفیصد دوائیں نکال لیں۔

دوسری جانب مشرقی غوطہ میں مسلسل بمباری اورجھڑپوں سے صورتحال انتہائی سنگین ہے، متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا اوردواؤں کی قلت ہے اورمتعدد اسپتال بمباری سے تباہ ہوچکے ہیں۔

روس کے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود عملا سیزفائرنہ ہوسکا جبکہ اقوام متحدہ نے فریقین سے تیس روز کے لئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ شامی صدربشارالاسد نے اقوام متحدہ کا فائر بندی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے بمباری جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا جبکہ حکومت نےغوطہ میں پمفلٹ پھینکے، جس میں شہریوں کو امداد کے بدلے باغیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا کہا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق اتنی تباہی کے باوجود شامی حکومت غوطہ کے صرف دس فیصد علاقے کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا پائی ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق زید راجہ الحسین نے غوطہ سمیت شام کےدیگر شہروں میں جاری بمباری کو جنگی جرم قرار دیا اور کہا تھا کہ  شام میں بمباری میں ملوث ممالک اپنے اس فعل کے جوابدہ ہوں گے،اور انہیں انسانی حقوق کی پامالی اور قتل عام پر جرائم کی عالمی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔


مزید پڑھیں : اقوام متحدہ نے شام میں بمباری کو جنگی جرم قرار دیدیا


سیرین نیٹ ورک فار ہیوم رائٹس نے فروری میں شام میں بمباری کے باعث ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ جاری کی ، جس کے مطابق فروری میں شام میں 1380 شہری جاں بحق ہوئے، جاں بحق افرادمیں 230 بچے ،191 خواتین شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے خبردارکیا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے شہریوں کا فوری انخلا نہ ہوا توایک ہزارافراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں