یمن: ممکنہ جنگی جرائم میں تمام پارٹیاں ملوث ہیں، اقوام متحدہ -
The news is by your side.

Advertisement

یمن: ممکنہ جنگی جرائم میں تمام پارٹیاں ملوث ہیں، اقوام متحدہ

جنیوا: اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم میں صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ سبھی پارٹیاں ملوث ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ایک اہم ملک یمن میں کسی ایک پارٹی کی جانب سے جنگی جرائم ہو رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ خونی جنگ میں تمام پارٹیاں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہ سبھی یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیے ذمہ دار ہیں۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غیر شفاف قرار دیا گیا ہے۔

یو این کا کہنا ہے ’یمن کے خونی تنازعے میں ہونے والے جنگی جرائم میں تباہ کن فضائی حملے، بے پناہ جنسی تشدد اور بچوں کی بہ طور فوجی بھرتی شامل ہیں۔‘

اس بات پر یقین کی معقول وجوہ ہیں کہ یمن میں مسلح تصادم میں ملوث پارٹیوں نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی کافی تعداد میں خلاف ورزی کی: اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کی ٹیم نے رپورٹ دی ہے کہ اس بات پر یقین کی معقول وجوہ ہیں کہ یمن میں مسلح تصادم میں ملوث پارٹیوں نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی کافی تعداد میں خلاف ورزی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں میں سے اکثر ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں، جن میں لوگوں کو انفرادی سطح پر قید کرنے کے بہت زیادہ واقعات، جنسی زیادتی، تشدد اور آٹھ سال کے بچوں کو فوج میں بھرتی کرنا شامل ہیں۔

یو این ٹیم کے سربراہ کامل جندوبی نے کہا کہ تفتیش کاروں نے جرائم میں ملوث چند لوگوں کو بھی نشان زد کیا ہے، جن کی فہرست آج اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کے حوالے کی جائے گی۔


یہ بھی پڑھیں:  سعودی اتحادی افواج نے یمن سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غیر شفاف قرار دے دیا


’سیو دی چلڈرن‘ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے روزانہ 130 بچے جان سے ہاتھ دھوتے ہیں، یہ بھوک اور بیماریاں جنگ کے ساتھ آئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن میں خانہ جنگی کے بعد سے اب تک 10,000 لوگ مر چکے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں