site
stats
اہم ترین

ملزمان کا بیان نشر ہونا غیر قانونی ہے، سندھ حکومت سراغ لگائے، چوہدری نثار

اسلام آباد : وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ زیرتفتیش ملزمان کی ویڈیوز سامنے لانا غیراخلاقی اور غیر قانونی عمل ہے، ان ویڈیوز کا مقصد میڈیا ٹرائل کرنا ہے، سندھ حکومت ایسی ویڈیوز کا سراغ لگائے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ زیر تفتیش اور گرفتار شدگان کی ویڈیوز کی تشہیر سے کیس کمزور ہوتا ہے، اداروں کو اس قسم کی ریکارڈنگ منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرتفتیش افراد کی ویڈیوز کی تشہیر غیر اخلاقی ہے، تمام مقدمات کا فیصلہ عدالتوں سے ہونا چاہیے ایسی ویڈیوز سے میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے جس کا کوئی حاصل وصول نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ویڈیوز کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سندھ حکومت کو خط لکھا جارہا ہے، حکومت سندھ سراغ لگائے کہ ان ویڈیوز کے پیچھے کون سے تفتیشی ادارے کا ہاتھ ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مستقبل میں ایسے اقدامات سے بچنے کے لیے پیمرا کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ ایسے معاملات کا سدباب کیا جائے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے وزیر داخلہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری نثار کا بیان آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے،ڈاکٹر عاصم حسین اور منہاج قاضی کے وڈیو بیانات نشر کیے جارہے ہیں دونوں کئی ماہ تک حراست میں تھے،چوہدری نثارکس سادگی سے سوال کررہے ہیں کہ ویڈیو کس نے جاری کیں۔

ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ چوہدری نثار معاملے کی ذمہ داری سندھ حکومت پرڈال رہےہیں، وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہ کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی دو اور ایم کیو ایم کے کارکن منہاج قاضی کی ایک ویڈیو میڈیا پر نشر کی جاچکی ہے، جبکہ ڈائریکٹر فشریز نثار مورائی نے بھی عدالت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حوالے سے آنے والی ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top