The news is by your side.

Advertisement

بے روزگاری نے پائلٹ کو نوڈلز بیچنے پر مجبور کردیا

کوالالمپور : ملائشین پائلٹ نے کرونا وائرس کے باعث ملازمت سے محروم ہونے کے بعد نوڈلز کا اسٹال لگا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نے دنیا بھر میں صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کیا بلکہ بڑی بڑی معیشتوں کو بھی بحران سے دوچار کیا ہے۔

متاثرین میں ائیرلائن کی صنعت بھی شامل ہے جو بری طرح مالی بحران کا شکار ہوئی ہے کیونکہ وبائی صورتحال کے دوران دنیا بھر میں پروازیں کئی ماہ تک منسوخ کردی گئی تھیں جس کےباعث فضائی کمپنیوں نے اپنے ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کیا۔

نوکری سے ہاتھ دھونے والوں میں ملائیشین پائلٹ عذرین محمد زواوی بھی شامل ہیں جنہیں کمپنی نے وبائی صورتحال کے دوران ملازمت سے برطرف کیا، نوکری سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے دارالحکومت کے باہر ایک نوڈلز کا اسٹال لگایا تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 44 سالہ محمد زواوی روز صبح پائلٹ کی وردی پہن کر گھر سے نکلتے تو ہیں لیکن اب وہ ایئرپورٹ جانے کے بجائے اپنے اسٹال پر جاتے ہیں جہاں وہ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ عذرین اپنے سٹال میں ملائیشئن پکوان فروخت کرتے ہیں جن میں خاندانی ترکیب سے تیار کردہ کڑی نوڈل ڈش، لکسا اور ایک مکس فروٹ ڈش جس کو ’روجک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے شامل ہیں۔

عذرین کا کہنا تھا کہ ’چیلنج کا مقابلہ کریں اور ہمت نہ ہاریں ، یہ ہوائی جہاز اڑانے جیسا ہی ہے۔

پائلٹ عذرین کو امید ہے کہ ان کا تجربہ وبائی مرض سے متاثرہ لوگوں کو زندگی گزارنے کے لیے نئے طریقے آزمانے کی طرف مائل کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں