The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر  کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات

اسلام آباد : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر  والکن بوذکر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ، جس میں وزیر خارجہ نے فلسطین پرہنگامی اجلاس بلانےپرصدر جنرل اسمبلی کی کاوشوں کوسراہا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر  والکن بوذکر   دفترخارجہ پہنچے ، جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

صدر جنرل اسمبلی والکن بوذکر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ، ملاقات میں مسئلہ فلسطین، مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کےامور پرگفتگو ہوئی۔

وزیرخارجہ نے صدر جنرل اسمبلی والکن بوذکرکووزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا اور فلسطین پرہنگامی اجلاس بلانےپرصدر جنرل اسمبلی کی کاوشوں کوسراہا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا اسرائیلی مظالم رکوانےکیلئےسیز فائر پہلا مقصد تھا جس میں کامیابی ہوئی ، اصل مقصد، یواین قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین ،کشمیر کا منصفانہ حل ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کومستقل بنیادپر حل کئےبغیر مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں، اسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کئےبغیرجنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

افغانستان کے حوالے سے انھوں نے کہا پاکستان اورافغانستان میں قیام امن کا خواہاں ہے، افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا گیا۔

وزیر خارجہ نے کوروناسے نمٹنے کیلئے صدر جنرل اسمبلی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا اس وبا سے مکمل چھٹکارے کیلئے ضروری ہے سب کو محفوظ بنایا جائے۔

والکن بوذکر اور وزیر خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے، جس میں علاقائی امن و سلامتی، اقوام متحدہ چارٹر کی پاسداری پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔

صدرجنرل اسمبلی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ بھی صدرجنرل اسمبلی کے شیڈول میں شامل ہیں جبکہ صدرمملکت کی جانب سے ولکان بوزکیر کو پاکستان سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکیر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پراسلام آباد پہنچے تھے ، ائیرپورٹ پر وزارت خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔

خیال رہے والکن بوذکرپہلےترک ڈپلومیٹ ہیں جویواین جنرل اسمبلی کی صدارت کررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں