site
stats
عالمی خبریں

برازیل کی جیل میں انسانیت کی تذلیل

برازیل : جنوب امریکی ریاست امزوناس اور رورائما کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا بازار گرم ہے‘ ماہرین قانون کے مطابق یہ عمل برازیل کی انتظامیہ کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق برازیل جیل شاید دنیا کی واحد جیل ہوگی جہاں 40 فیصد قیدی بغیر کسی جرم کے سزا کاٹ رہے ہیں، نہ ان کے خلاف کوئی مقدمات ہیں اور نہ ہی ان کا کیس کسی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن پھر بھی یہ قیدی جیل حکام کی جانب سے کیے جانے والے جانوروں جیسےسلوک کو برداشت کر رہے ہیں۔

brazil-post-1

کم جگہ کے باعث چار قیدیوں کے لیے قائم کیے گئے قید خانوں میں 12 قیدی رہ رہے ہیں جب کہ صحت و صفائی سے عاری ان قید خانوں میں قیدیوں کو چوہوں کے ساتھ ہی گذر بسر کرنی ہوتی ہے یہی نہیں اکثر سیل تو چھت سے بھی محروم ہوتے ہیں اور موسم کی سختیان براہراست قیدیوں کا کڑا امتحان ہیں۔

اندھیرے کمروں میں تکلیف دہ زندگی گذارنے والے قیدیوں کو رات بسر کرنے کے لئے زمین پر بچھانے کے لئے مختصر پلاسٹک فراہم کی جاتی ہے‘ جس کے لیے قیدی بلاناغہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہیں اور اکثرجیل کے اندر ہی قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔

brazil-post-2

 رفع حاجت کی جگہ جیل کا گندا ترین حصہ ہے جہاں ہفتوں صفائی ستھرائی نہیں کی جا تی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات مختلف قسم کی بیماریاں قیدیوں کو گھیرے رہتی ہیں۔

برازیل کی انتظامیہ  یہاں قتل اوردیگر سنگین جوائم میں ملوث قیدیوں کو یہاں رکھتے ہیں۔ جیل کی سختیاں جھیل کر اکثر قیدی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور نفسیاتی دبائو کے باعث خطرناک حد تک چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتھی قیدیوں کے درمیان کشت وخون جاری رہتا ہے۔


*برازیل، جیل میں دو گروہ میں تصادم، 27 قیدی جاں بحق


انسانی حقوق اور ماہرین عدل و قانون کا کہنا ہے کہ ’حکومت ریاستی قیدیوں پرقابو پانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ جیل کی ابتر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی ہے جب کہ نظام کی سستی کے باعث اکثر قیدی اپنے کیس کی سماعت کے انتظار میں اپنی زندگی کے قمیتی سال ضائع کر دیتے ہیں اور اکثر تو موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔


*برازیل : جیل میں تصادم، 50 سے زائد قیدی ہلاک


یاد رہے کہ  برازیل جیل میں چند روز قبل سال کا پہلا پرتشدد واقعہ پیش آیا جس میں 56 قیدی ابدی نیند سو گئے تھے جب کہ اس افسوسناک واقعے کے بارے میں انتظامیہ نے موقف اختیہار کیا تھا کہ قتل وغارت گری وہی خطرناک قیدی کرتے ہیں جو خون خرابے کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔

پانچ روز قبل برازیل کی ریاست رورائما کی جیل میں 33 قیدی قتل ہوگئے تھے انسانیت سوزسلوک کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والے اکثر قیدیوں کے دل اور آنتیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔


*برازیل:جیل میں 2 گروپوں میں تصادم،25 قیدی ہلاک


ریاست رورائما کے سیکیورٹی سیکریٹر ی ازبیل کاسترو کے مطابق جیلر قیدیوں کو یہ کام کرنے پر اکساتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محاذآرائی نہیں بلکہ کھلم کھلا اقدام قتل ہے ۔

brazil-post-3

سیکیورٹی سیکریٹر ی ازبیل کاسترو کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو ناقص غذا دیکر سخت مشقت کروائی جاتی ہے جب کہ قیدیوں کا ناکافی قانونی مشاورت اورمدد فراہم کی جاتی ہے۔

تاہم برازیلی صدر نے جیل سے متعلق ایسی رپورٹوں اور اطلاعات کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم سہولتوں سے آراستہ جیل خانہ بنا رہے ہیں جب کہ لوگ فضول اور بے جا تنقید کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ منسٹری آف جسٹس ڈیٹا کے مطابق سن دو ہزار میں دو لاکھ تیتس ہزاز قیدی ریکاڈر کیے گئے جبکہ دوہزار چودہ میں چھ لاکھ بائیس ہزار قیدی تھے۔

1992 میں اس جیل میں پہلا خطرناک قیدی آیا تھا جس نے 111 قتل کیے تھے۔ قانون دان ہارٹمن کے مطابق جیل میں 40 فصید قیدی بے جرم پابند سلاسل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ برازیل کے نظام کے ناقص میعار کی نشاندہی کرتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top